خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 521
خطبات مسرور جلد 12 521 خطبه جمعه فرموده مورخه 29 اگست 2014ء دانستہ اس سے سختی سے پیش آؤں۔میرا کام یہ ہے کہ میں صبر کا مظاہرا کروں اور اس کے لئے رو رو کر دعا کروں کہ یہ روحانی طور پر بیمار ہے اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کرے۔(ماخوذ از شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 396) پس یہ وہ معیار ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے دین میں ، قرآن کریم میں حکم دیا ہے کہ رُحماء بينهم (الفتح : 30) - کہ مؤمن آپس میں رحم کے جذبات رکھتے ہیں اور رحم کے جذبات کی وجہ سے ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرتے ہیں اور درد کو محسوس کر کے اس کے لئے عملی کوشش بھی کرتے ہیں اور دعائیں بھی کرتے ہیں۔پس ہمیں جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو یہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر ہم اس پر عمل کرنے لگ جائیں تو جتنے چھوٹے بڑے جھگڑے ہمارے ہوتے ہیں یہ سب ختم ہو جا ئیں۔ذاتی اناؤں کا وہیں سوال پیدا ہوتا ہے، بغض اور غصہ وہیں بھڑکتا ہے جب تقویٰ نہ ہو۔جب خدا تعالیٰ کا خوف نہ ہو جب ذاتی مفادات کو دوسروں کے مفادات پر ترجیح دی جارہی ہو۔پس یہ تقوی پیدا کرنا ہر مومن کا فرض ہے۔ہر اس شخص کا فرض ہے جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی طرف منسوب کرتا ہے۔ہر اس شخص کا فرض ہے جو جلسے میں شامل ہو رہا ہے۔کیونکہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا وارث بننا ہے، جلسے کی برکات سے فیض اٹھانا ہے تو تمام جھگڑوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، ان باتوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے قدم قدم پر رہنمائی مل جاتی ہے۔اسلام کی حقیقت اور تقویٰ کا پتا چل جاتا ہے۔ان بکھرے ہوئے مسلمانوں کی طرح نہیں ہیں جن کو پتا ہی نہیں چلتا کہ کس کے پیچھے چلیں اور کس کے پیچھے نہ چلیں۔جن کی غلط رہنمائی کر کے ان کے نام نہاد لیڈروں اور مذہبی رہنماؤں نے ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے پر ان کو لگا دیا ہوا ہے۔پس ان لوگوں کے لئے بھی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے اور یہ اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے غضب کا مورد نہ بنیں۔اسلام کا غلط تصور دنیا کے سامنے رکھ کر اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے کی کوشش کرنے والے نہ بنیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے ماننے والوں کی تعریف ان الفاظ میں فرماتے ہیں که حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے ہر مسلمان اور ہر سلامتی دینے والا بلا تخصیص محفوظ رہے۔(صحیح البخاری کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده حدیث نمبر (10)