خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 516 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 516

خطبات مسرور جلد 12 516 خطبه جمعه فرموده مورخہ 22 اگست 2014ء دستر خوان میں دیکھ لو کچھ بچا ہوا ہو گا وہی کافی ہے۔دستر خوان کو دیکھا تو اس میں روٹیوں کے چند ٹکڑے تھے۔آپ نے فرمایا یہی کافی ہیں اور ان میں سے ایک دو ٹکڑے لے کر کھا لئے اور بس۔پس ہمارے کارکنوں کے لئے یہ سبق ہے کہ بعض دفعہ بعض حالات میں کہیں خوراک کی کمی ہو جائے تو پریشان نہیں ہونا چاہئے بلکہ مہمانوں کی خاطر قربانی کرنی چاہئے۔شیخ یعقوب علی صاحب یہ لکھتے ہیں کہ بظاہر یہ واقعہ نہایت معمولی معلوم ہو گا مگر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سادگی اور بے تکلفی کا حیرت انگیز اخلاقی معجزہ نمایاں ہے۔کھانے کے لئے اس وقت نئے سرے سے انتظام ہو سکتا تھا اور اس میں سب کو خوشی ہوتی مگر آپ نے یہ پسند نہ فرمایا کہ بے وقت تکلیف دی جاوے اور نہ اس بات کی پرواہ کی کہ پر تکلف کھانا آپ کے لئے نہیں آیا۔اور نہ اس غفلت اور بے پرواہی پر کسی سے جواب طلب کیا اور نہ خفگی کا اظہار۔بلکہ نہایت خوشی اور کشادہ پیشانی سے دوسروں کی گھبراہٹ کو دور کر دیا۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی جلد سوم صفحہ 333 مطبوعہ ربوہ ) پس اگر کبھی ایسا موقع پیدا ہو جائے تو ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے اکثریت تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے کارکنان کی ایسی ہے جو اچھے اخلاق دکھانے والی ہے اس کی پرواہ نہیں کرتی۔لیکن بعض دفعہ بعض شکوہ کرنے والے بھی ہوتے ہیں تو ان کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے لیکن ہر شعبے کے افسران اور شعبہ خوراک یا مہمان نوازی کا بھی کام ہے کہ اپنے کارکنان کے لئے پہلے انتظام کر کے رکھا کریں تا کہ جب وہ اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہو کر آئیں تو ان کو خوراک مہیا کی جاسکے یا کھانا یا کوئی اور انتظام ہو۔ایک اصولی ہدایت جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں دی ہے اسے کارکنان کو ہمیشہ سامنے وو ،، رکھنا چاہئے۔مہمان نوازی کی نسبت ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: ” میرا ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو بلکہ اس کے لئے ہمیشہ تاکید کرتا رہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے۔مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے، شیشے کی طرح نازک ہوتا ہے اور ذرا سی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔‘ فرمایا کہ اس سے پیشتر میں نے یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتا تھا مگر جب سے بیماری نے ترقی کی اور پر ہیزی کھانا کھانا پڑا تو پھر وہ التزام نہ رہا۔ساتھ ہی مہمانوں کی کثرت اس قدر ہو گئی کہ جگہ کافی نہ ہوتی تھی اس لئے مجبوری علیحدگی ہوئی۔ہماری طرف سے ہر ایک کو اجازت ہے کہ اپنی تکلیف کو پیش کر دیا کرے۔بعض لوگ بیمار ہوتے ہیں ان کے واسطے الگ