خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 515 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 515

خطبات مسرور جلد 12 515 خطبه جمعه فرموده مورخہ 22 اگست 2014ء مجھے بلایا کہ زمین میں کیوں لیٹ رہے ہو۔برسات کا موسم ہے اور سانپ بچھو کا خطرہ ہے۔میں نے سب حال عرض کیا کہ ایسا ہوتا ہے اور میں کسی کو کچھ نہیں کہتا۔آخر ان لوگوں کی تواضع اور خاطر و مدارات ہمارے ذمہ ہے۔یہ سن کر آپ اندر گئے اور ایک چار پائی میرے لئے بھجوا دی۔ایک دو روز تو وہ چار پائی میرے پاس رہی۔آخر پھر ایسا ہی معاملہ ہونے لگا جیسا کہ میں نے بیان کیا۔پھر کسی نے آپ سے کہہ دیا۔پھر آپ نے اور چار پائی بھجوا دی۔پھر ایک روز کے بعد وہی معاملہ پیش آیا۔پھر آپ کو کسی نے اطلاع دی اور صبح کی نماز کے بعد آپ نے مجھے فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب بات تو یہی ہے جو تم کرتے ہو۔( یعنی یہ مہمان نوازی کا حق ہے ) اور ہمارے احباب کو ایسا ہی کرنا چاہئے لیکن تم ایک کام کرو۔ہم ایک زنجیر لگا دیتے ہیں۔چار پائی میں زنجیر باندھ کر چھت میں لٹکا دیا کرو۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم یہ سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ ایسے بھی استاد ہیں جو اس کو بھی اتار لیں گے۔پھر آپ بھی ہنسنے لگے۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود مصنفہ رشیخ یعقوب علی صاحب عرفانی جلد سوم صفحہ 344-345 مطبوعہ ربوہ) تو مہمان نوازی میں اسطرح کے لطیفے بھی ہو جاتے ہیں۔مذاق کی باتیں۔لطیفے کے لفظ سے مجھے یاد آگیا بعض دفعہ میں لطیفہ کہ مزاح کی کوئی بات بیان کرتا ہوں۔اردو میں لطیفہ کا مطلب ہے کوئی اچھی بات یا کوئی گہری نکتے کی بات اور مزاح کی بات۔یہ سارے اس کے مطلب ہیں۔ایک دفعہ میں خطبہ میں سن رہا تھا تو بجائے لطیفہ کو مزاح کی بات کر کے ذکرنے کے ترجمہ کرنے والے نے اس کو بڑا نکتہ کر کے بیان کیا تھا جس طرح اس میں کوئی سبق ، گہرا نکتہ بیان ہو رہا ہے۔تو ترجمے میں بعض دفعہ غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن یہاں بہر حال ایک نکتہ ہے کہ اپنی چیز کی حفاظت کرنی چاہئے۔پھر آپ علیہ السلام کے ایک نمونے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو ہمارے کام کرنے والے عہد یداروں کے لئے بھی ایک نمونہ ہے اور کارکنان کے لئے بھی ایک سبق ہے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تحریر فرماتے ہیں کہ جنگ مقدس کی تقریب پر بہت سے مہمان جمع ہو گئے تھے۔ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کھانا رکھنا یا پیش کرنا گھر میں بھول گیا۔میں نے اپنی اہلیہ کو تاکید کی ہوئی تھی مگر وہ کثرت کاروبار، مشغولیت کی وجہ سے بھول گئی یہاں تک کہ رات کا بہت بڑا حصہ گزر گیا اور حضرت نے بڑے انتظار کے بعد استفسار فرمایا۔(کھانے کے متعلق پوچھا تو سب کو فکر ہوئی۔بازار بھی بند ہو چکا تھا اور کھانا نہ مل سکا۔حضرت کے حضورصورتحال کا اظہار کیا گیا۔آپ نے فرمایا اس قدرگھبراہٹ اور تکلیف کی کیا ضرورت ہے۔