خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 514
خطبات مسرور جلد 12 514 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اگست 2014ء قربانی نہیں دینی پڑ رہی۔ربوہ میں جب جلسہ سالانہ ہوتا تھا تو ربوہ کے مکین اپنے گھروں کے آرام کو مہمانوں کے آرام کی خاطر قربان کر دیا کرتے تھے۔جماعت کو اپنے گھر پیش کر دیتے تھے کہ ان کے مہمان اس میں ٹھہرائے جائیں۔باوجود یکہ لنگر ہمیشہ جاری رہتا تھا، یہ خاص طور پر جلسے کے آٹھ دس دنوں میں بعض بوجھ اٹھا کر بھی کھانے پینے کی مہمان نوازی کیا کرتے تھے۔لیکن بہر حال وہ حالات کہیں بھی نہیں تھے جس کے نمونے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے ہمیں دکھائے۔اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اسوہ میں ہمیں اپنے آقا کی اتباع میں وہ نمونے نظر آتے ہیں جب آپ نے مہمانوں کی مہمان نوازی کے لئے اپنا آرام بھی قربان کیا اور سردی میں بغیر کسی رضائی کے، بغیر بستر کے رات بسر کی۔(ماخوذ از اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ 180 روایت نمبر 76 مطبوعہ ربوہ) کھانے کے انتظامات کے لئے حضرت اماں جان کا زیور بھی رقم کے بندوبست کے لئے استعمال کیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 13 صفحہ 364 روایت حضرت منشی ظفر احمد صاحب) اور یہی قربانی کا جذبہ آپ کے صحابہ نے بھی ہمیں دکھایا جو دوسروں کے آرام کو اپنے آرام پر ترجیح دیتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسے کے ضمن میں بھی اس بات کا اظہار فرمایا ہے کہ ہمارے احباب ایسے نہیں ہونے چاہئیں جو اپنے آپ کو دوسروں پر ترجیح دیں بلکہ قربانی کرنی چاہئے۔(ماخوذ از شہادۃ القرآن ، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 394-395) ایک واقعہ ہے، سیرت میں لکھا ہے۔صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب کا بیان ہے کہ:۔میرے لئے جو ایک چار پائی حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے دے رکھی تھی۔جب مہمان آتے تو میری چار پائی پر بعض صاحب لیٹ جاتے اور میں مصلیٰ زمین پر بچھا کر لیٹ جاتا۔اور جب میں بستر چار پائی پر بچھا لیتا تو بعض مہمان اس چار پائی بستر شدہ پر لیٹ جاتے۔میرے دل میں ذرہ بھر بھی رنج یا ملال نہ ہوتا اور میں سمجھتا کہ یہ مہمان ہیں اور ہم یہاں کے رہنے والے ہیں۔اور بعض صاحب میرا بستر چار پائی کے نیچے زمین پر پھینک دیتے اور آپ اپنا بستر بچھا کر لیٹ جاتے۔ایک دفعہ ایسا ہی ہوا۔حضرت اقدس علیہ السلام کو ایک عورت نے خبر دے دی کہ حضرت پیر صاحب زمین پر لیٹے پڑے ہیں۔آپ نے فرما یا چار پائی کہاں گئی ؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں۔آپ فورا باہر تشریف لائے اور گول کمرے کے سامنے