خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 513 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 513

خطبات مسرور جلد 12 513 خطبه جمعه فرموده مورخہ 22 اگست 2014ء حاضر ہوا تو آپ نے ہنس کر فرمایا کہ تمہاری رات کی تدبیر سے تو اللہ تعالیٰ بھی مسکرا دیا۔یا فرمایا کہ تم دونوں کے اس فعل کو اس نے پسند فرمایا۔بعض روایات میں آتا ہے کہ اسی موقع پر یہ آیت بھی نازل ہوئی کہ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ - وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر : 10 ) کہ یہ پاک باطن اور ایثار پیشہ مخلص ہیں۔ایثار پیشہ مخلص مومن اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ وہ خود ضرورتمند اور بھوکے ہوتے ہیں اور جو نفس کے بخل سے بچائے گئے وہی کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔(صحیح البخاری کتاب المناقب باب قول الله ويؤثرون على انفسهم۔۔۔الخ حدیث 3798) پس یہ ان کی تدبیر تھی جس پر اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوا کہ تھوڑا کھانا دیکھ کر مہمان کہیں جھجھک نہ جائے۔اپنا ہاتھ کہیں کھانے سے روک نہ لے۔یہ تدبیر انہوں نے کی کہ چراغ کو بجھا دو تا کہ مہمان جس کے اکرام کے بارے میں حکم ہے اس کو یہ احساس پیدا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے گھر والوں کو کوئی تنگی آ رہی ہے۔دوسرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہے۔پس اس کے لئے تو ہمیں خاص طور پر مہمان نوازی کرنی چاہئے۔پس آج بھی ہمیں اس بات کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان دنوں میں آنے والے مہمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے مہمان ہیں۔دینی مقصد کے لئے سفر کر کے آنے والے مہمان ہیں۔آج بھی گو مقصد ایک ہے لیکن حالات مختلف ہیں۔آج جب کارکنوں کو مختلف خدمات اور مہمان نوازی کے لئے بلایا جاتا ہے تو انتظامیہ یہ نہیں کہتی کہ اپنے گھر لے جا کر مہمان نوازی کرو۔لوگوں کے وہ حالات نہیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے۔آپ کے صحابہ کے جو حالات تھے کہ گھر میں کچھ بھی نہیں یا بہت تھوڑا ہے پھر بھی اپنے نفس کو مشقت میں ڈال کر ، اپنے بچوں کی بھوک کی قربانی دے کر پھر بھی خدمت کرنی ہے۔یہاں تو سب کچھ کارکنوں کو دے کر پھر کہا جاتا ہے کہ مختلف انتظامات کے تحت کام کرنے کے لئے صرف اپنے آپ کو پیش کرو۔نظام جماعت باقی سہولیات مہیا کرے گا۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ آپ سب کا رکنان مرد عورتیں بچے خوش قسمت ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت پر مامور کئے گئے ہیں اور بغیر کسی مشقت کے صرف مہمان نوازی کے فرائض ہی ادا کر رہے ہیں کوئی مالی بوجھ نہیں پڑ رہا یا کسی اور قسم کی