خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 511 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 511

خطبات مسرور جلد 12 511 خطبه جمعه فرموده مورخہ 22 اگست 2014ء مہمان، غیر لوگ زیادہ توجہ چاہتے ہیں۔اس لئے بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ غیر صرف observe کر رہے ہوتے ہیں یہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ رویے کیسے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ ان سے کیسا سلوک ہے۔وہ تو اچھا سلوک ان سے کیا جاتا ہے۔لیکن وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ دوسروں سے کیسا سلوک ہے۔پس ہر وقت اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ ہم نے مہمانوں کی خدمت کرنی ہے اور حقیقی طور پر ایسی خدمت کرنی ہے جو ہمیں حقیقی خوشی پہنچانے والی ہو۔پس ہمارے ہر آنے والے مہمان سے ہمیں اس طرح خوشی پہنچنی چاہئے جس طرح اپنے عزیز مہمان کو دیکھ کر ہوتی ہے، کسی قریبی کو دیکھ کر ہوتی ہے، اور جب ایسی خوشی ہو تو پھر ہی خدمت کا حق بھی ادا ہوتا ہے۔اپنوں کی خدمت اور مہمان نوازی ، قریبیوں کی خدمت اور مہمان نوازی یہ تو سب کر لیتے ہیں۔زیادہ پیارے اگر کسی کے ہوں تو ان کے نخرے بھی برداشت کر لیتے ہیں۔اصل جذبہ خدمت تو اس وقت پتا چلتا ہے جب کوئی خونی رشتہ نہ ہو۔جب مہمان آتے ہیں تو سلامتی حاصل کرنے اور سمیٹنے کے لئے آتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ جلسے کے مہمان ہیں جن کے کوئی دنیاوی مقاصد نہیں ہوتے۔پس ایسے مہمانوں کے لئے حتی المقدور سلامتی اور آسانیوں کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے جو ہمیں کرنے چاہئیں۔پھر مہمان نوازی کا یہ معیار ہمیں قائم کرنے کی ضرورت ہے کہ اپنے تمام تر وسائل کے مطابق اور حالات کے مطابق جو بہترین مہمان نوازی کی سہولت ہم مہیا کر سکتے ہیں وہ کریں۔انتظامیہ کو اس بارے میں ہمیشہ سوچتے رہنا چاہئے۔پس اللہ تعالیٰ ہم سے اس قسم کی مہمان نوازی چاہتا ہے کہ بہترین سہولت مہیا ہو۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والے تھے۔آپ نے ہماری اس بارے میں کس طرح رہنمائی فرمائی ہے آپ نے فرمایا کہ مہمان کا تم پر حق ہے اسے ادا کرو۔(سنن الترمذی ابواب الزهد باب نمبر 64/63 حدیث نمبر (2413) ایسی مثالیں بھی ہیں کہ مہمان زیادہ آگئے ، آپ نے صحابہ میں مہمان بانٹنے شروع کر دیئے اور خود بھی ، اپنے حصے میں بھی مہمان لئے۔انہیں اپنے گھر لے گئے۔گھر جا کر پتا لگا کہ تھوڑا سا کھانا اور مشروب ہے۔حضرت عائشہ سے جب آپ نے پوچھا تو انہوں نے عرض کی کہ آپ کی افطاری کے لئے تھوڑا سا رکھا ہوا ہے۔صرف وہی گھر میں ہے اور تو کچھ نہیں۔آپ نے اس میں سے تھوڑ اسا چکھا اور مہمان کو کہا کہ اب تم کھاؤ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چکھا بھی اس لئے ہو گا یقینا کہ میرے لینے اور کھانے سے اس میں برکت پڑ جائے۔اور مہمانوں کے لئے وہ برکت والا کھانا ان کے لئے سیری کا باعث بن جائے۔اور