خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 510 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 510

خطبات مسرور جلد 12 510 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اگست 2014ء لئے توجہ دلانے سے آگے آئے ہیں۔ان کی صحیح رہنمائی کے لئے اور ان کو مزید فعال بنانے کے لئے بھی کہ مہمانوں کی خدمت کس طرح کی جانی چاہئے۔خدمت کی اہمیت بتانے کے لئے نصیحت کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ وَذَكَّرُ فَإِنَّ الذِكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ (الذاريات : 56) یعنی یاد دلاتارہ کیونکہ یاد دلانا مومنوں کو نفع بخشتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔پس اس یاددہانی کو بھی بلا وجہ کی بات کو دہرانا یا repetition نہیں سمجھنا چاہئے۔بہت سے کارکنوں کو اس یاد دہانی سے ہی اپنی اہمیت کا اندازہ اور احساس ہوتا ہے۔کوئی توجہ طلب بات پہلے سنی ہونے کے باوجود وہ بھول جاتے ہیں یا اتنی توجہ نہیں رہتی اور یاد دہانی سے پھر توجہ پیدا ہو جاتی ہے اور بعض اس کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ہمیں توجہ پیدا ہوئی۔یہ بات بھی یاد رکھیں کہ جیسا کہ میں نے کہا کہ جلسے پر آنے والے بہت سے ایسے ہیں جو دور دور کا سفر کر کے آتے ہیں اور مسافروں کی خدمت کا حق ادا کرنا بھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر فرض قرار دیا اور ان کا شیوہ قرار دیا۔ہمارے یہاں جلسہ پر آنے والے مہمانوں کا تقریباً چھٹا حصہ جو یو کے میں جلسے میں شامل ہوتے ہیں وہ یورپ کے علاوہ دوسرے ملکوں سے مشرق بعید سے، پاکستان سے، ہندوستان سے، افریقہ سے، امریکہ سے، ساؤتھ امریکہ سے، جلسے کی برکات سمیٹنے کیلئے آتا ہے۔تو بہت دور دور کے ممالک سے آتے ہیں اور تقریباً باقی میں سے نصف ایسے مہمان ہیں جو یہاں کے دوسرے شہروں سے آتے ہیں۔تو یہ سب بھی مہمان ہیں، مسافر ہیں بلکہ بعض بوڑھوں اور کمزوروں اور بیماروں کے لئے لندن سے حدیقۃ المہدی جانا بھی ایک سفر ہوتا ہے، تکلیف دہ سفر ہوتا ہے۔جو بڑی تکلیف اٹھا کر وہ کر رہے ہوتے ہیں۔پس ہر ڈیوٹی دینے والے اور ڈیوٹی دینے والی کارکنہ کو ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہئے۔انہیں یہ احساس ہونا چاہئے کہ ہمارے مسافر ہیں، مہمان ہیں ان کی ہم نے خدمت کرنی ہے اور ان سے ہر طرح حسن سلوک کرنا ہے۔بعض دفعہ بعض مہمانوں کے غلط رویے بھی ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ہر کارکن کو ہر ڈیوٹی دینے والے کو حو صلے سے کام لینا چاہئے اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر شعبے کے کارکن کو اپنے فرائض ادا کرنا چاہئیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے نبی کی مثال دے کر قرآن شریف میں جو تو جہ دلائی ہے کہ مہمان کو کس طرح سنبھالنا ہے۔مہمان کے سلام کے جواب میں اس سے زیادہ بھر پور طریق پر اسے سلام کا جواب دینا ہے۔اس کے لئے نیک جذبات کا اظہار کرنا ہے۔اسے امن اور تحفظ دینا ہے۔خوشی کا اظہار کرنا ہے۔حقیقی سلامتی ہوتی ہی اس وقت ہے جب خوشی پہنچے اور مہمان صرف یہی نہیں کہ احمدی ہی مہمان ہیں۔غیر (احمدی)