خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 503 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 503

خطبات مسرور جلد 12 503 خطبه جمعه فرموده مورخه 15 اگست 2014ء گا۔تو یہ تو دنیاوی بادشاہوں کا حال ہے جہاں انعاموں سے نوازتے ہیں وہاں خزانے خالی ہونے کا بھی ان کو ڈر رہتا ہے۔لیکن ہمارا خدا تو وہ انعام دیتا ہے اور دیتا چلا جاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتے اور روحانی زندگی دینے کے بعد پھر دائمی زندگی دیتا ہے اور اس اخروی زندگی میں بھی انعام دیتا چلا جاتا ہے اور بڑھاتا چلا جاتا ہے۔لیکن اس کے حصول کے لئے جیسا کہ یہ بوڑھا کسان قربانی کر رہا تھا قربانیاں کرنی پڑتی ہیں۔ایسی قربانیاں جن کا فوری فائدہ نظر نہیں آتا مگر اس کے پیچھے بہت عظیم الشان فوائد ہوتے ہیں۔انبیاء کے متبعین بھی اسی اصول کے تحت قربانیاں کرتے ہیں اور وہ اور ان کی جماعت دنیا میں پھر کامیاب ہوتے جاتے ہیں۔اور باقیوں کو خدا تعالیٰ ذلیل ورسوا کر دیتا ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں پر کیا کیا ظلم نہیں کئے گئے۔تقریباً تین صدیوں تک ان پر سخت مظالم ڈھائے گئے مگر وہ صبر سے مظالم برداشت کرتے رہے اور قربانی کرتے چلے گئے حتی کہ تیسری صدی میں جب روما کے بادشاہ نے عیسائیت قبول کی تو پھر ان کو آزادی حاصل ہوئی۔انہوں نے اس مشکلات کے دور میں غاروں میں چھپ کر بھی گزارا کیا۔پس جس طرح عیسائیوں نے پہاڑوں کے غاروں میں چھپ کر اپنے ایمانوں کو سلامت رکھا۔اپنی روحانی زندگی کو بچانے کے لئے چٹانوں کے پیچھے چلے گئے۔اس لئے کہ انہیں یقین تھا کہ ایک دن ان کو آزادی ملنی ہے۔اسی طرح آج مسیح محمدی کے غلاموں کو ان سے زیادہ یقین ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہمارا یہ غلبہ ہونا ہے۔پس ہم نے بھی جہاں جہاں مشکلات کے دور ہیں اپنے ایمانوں کی حفاظت کرنی ہے۔جو زندگی کا پانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں پلا یا اس سے فیض پاتے چلے جانا ہے۔عیسائیوں نے تو چٹانوں کے پیچھے چھپ کر اپنے ایمانوں کی حفاظت کی اور قربانیاں دیں۔ہم نے اپنے ایمانوں کو پتھر کی چٹان کی طرح مضبوط کرنا ہے اور یہ ثابت کر کے دکھانا ہے تا کہ وہ انعام اور وہ فیض ہمیشہ جاری رہے۔کچے ایمان تو پہلے بھی تھے اور بہت سوں میں ہیں۔ہم نے اس بات کو ثابت کرنا ہے کہ مامور کا کام نئی زندگی پیدا کرنا ہوتا ہے اور ایمانوں کو مضبوط کرنا ہوتا ہے اور وہ حالت بہر حال ہم نے انشاء اللہ تعالیٰ اپنے اندر پیدا کرنی ہے اور اس حالت کا اظہار اس وقت ہوسکتا ہے جب ہم اس بات پر کامل یقین رکھتے ہوں کہ غلبہ انشاء اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کا مقدر ہے اور بحیثیت فرد جماعت اس بات کو ہر ایک سمجھے کہ اس غلبے میں میں نے بھی حصہ ڈالنا ہے۔دنیا کی نجات میرے ذریعہ سے ہوتی ہے اور اس کے لئے میں نے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔تمام مشکلات کے با وجود میں نے اپنی زندگی کے بھی سامان کرنے ہیں اور دنیا کی زندگی کے بھی سامان کرنے ہیں کیونکہ اس