خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 44

خطبات مسرور جلد 12 44 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جنوری 2014ء جماعت کے افراد جہاں کہیں بھی ہیں اگر وہ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے رابطہ رکھتے ہیں تو میری باتیں سن لیتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن پر اثر بھی ہوتا ہے یا کم از کم اچھی تعداد میں لوگوں پر اثر ہوتا ہے۔لیکن مربیان، امراء اور عہدیداران کا کام ہے کہ اپنے پروگرام اس نہج سے رکھیں کہ یہ پیغام اور اس بنا پر بنائے ہوئے پروگرام بار بار جماعت کے سامنے آئیں تا کہ ہر احمدی کے ذہن میں اُس کا دائرہ عمل اچھی طرح واضح اور راسخ ہو جائے۔پس یہ بہت اہم چیز ہے جسے اُن سب کو جن کے سپر د ذمہ داریاں ہیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔اصلاح کے ذرائع کا جو سب سے پہلا حصہ ہے، جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے وہ قوتِ ارادی کی مضبوطی ہے۔یا دوسرے لفظوں میں ایمان ہے جس کے پیدا کرنے کے لئے انبیاء دنیا میں آتے ہیں اور وہ انبیاء تازہ اور زندہ معجزات دکھاتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت کے پاس تو اللہ تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانات کا اتنا وافر حصہ ہے کہ اتنا سامان کیا، اس سامان کے قریب قریب بھی کسی اور کے پاس موجود نہیں۔اور اسلام کے باہر کوئی مذہب دنیا میں ایسا نہیں جس کے پاس خدا تعالیٰ کا تازہ بتازہ کلام ، اُس کے زندہ معجزات اور اُس کی ہستی کا مشاہدہ کرانے والے نشانات موجود ہوں ، جو انسانی قلوب کو ہر قسم کی آلائشوں سے صاف کرتے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت سے لبریز کر دیتے ہیں۔لیکن با وجود اس ایمان کے اور باوجود ان تازہ اور زندہ معجزات کے پھر کیوں ہماری جماعت کے اعمال میں کمزوری ہے؟ اس کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے خیال کا یہ اظہار فرمایا ہے کہ وجہ یہ ہے کہ سلسلہ کے علماء ، مربیان اور واعظین نے اس کو پھیلانے کی طرف خاص توجہ نہیں دی۔حضرت مصلح موعود کی یہ بات جس طرح آج سے پچپتر ، چھہتر سال پہلے صحیح تھی ، آج بھی صحیح ہے اور اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔اور جوں جوں ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے دُور جا رہے ہیں، ہمیں اس طرف مکمل planning کر کے توجہ کی ضرورت ہے۔پس آپ کا یہ فرمانا آج بھی قابلِ توجہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ وفات مسیح پر جس شد و مد سے تقریریں کرتے ہیں یا معترضین کے اعتراضات پر حوالوں کے حوالے نکال کر اُن کے یعنی اُن معترضین کے بزرگوں کے جو اقوال ہیں، معترضین کے سامنے ہم پیش کرتے ہیں اور اُن کا منہ بند کر دیتے ہیں۔اتنی کوشش جماعت کے افراد کے سامنے جماعت کی صحیح تعلیم پیش کرنے کی نہیں ہوئی یا کم از کم علماء کی طرف سے نہیں ہوتی۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری جماعت میں