خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 489 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 489

خطبات مسرور جلد 12 489 خطبه جمعه فرموده مورخه 08 اگست 2014ء کام تیری خوشنودی کی خاطر کیا تھا تو اس پتھر کو ہمارے راستے سے ہٹا دے۔اس دعا سے اس طوفان کی وجہ سے وہ پتھر اپنی جگہ سے تھوڑا سا ہٹ گیا لیکن راستہ نہیں کھلا۔پھر دوسرے نے کہا۔اے خدا تو جانتا ہے کہ ایک مزدور میرے پاس آیا۔اس نے میری مزدوری کی۔اس سے پہلے کہ وہ میرے سے مزدوری لے۔وہ چلا گیا۔یہ مزدوری جو نصاب بنتا ہے اس میں تقریباً نوسیر دانے کے برابر بنتی ہے۔تو میں نے اس کی مزدوری کے جو دانے تھے ان کو بو دیا۔اس کی فصل لگا دی۔وہ فصل اچھی ہوئی۔اور اس میں سے میں نے کچھ جانور خرید لئے جو بڑھتے بڑھتے بھیڑوں بکریوں کا ایک گلہ بن گیا۔پھر یوں ہوا کہ کئی سالوں کے بعد وہ میرے پاس آیا اور اپنی مزدوری مانگی۔میں نے کہا کہ یہ بکریوں کا گلہ تمہارا ہے۔تم لے جاؤ۔ایک وادی میں پھیلا ہوا تھا۔اس نے کہا کہ مزدوری لینے آیا ہوں اور تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو۔تب میں نے اس سے کہا کہ تمہاری مزدوری سے میں نے تجارت کی تھی جس سے اتنا بڑا ریوڑ بن گیا۔یہ تمہارا ہے اس پر وہ ریوڑ لے کر چلا گیا۔پس اے خدا! اگر یہ کام میں نے تیری خوشنودی اور رضا کی خاطر کیا ہے تو ہم پر رحم کر اور یہ پتھر ہٹا دے۔اس پر ہوا کے ایک تیز جھگڑہ نے اس پتھر کو تھوڑ اسا اور سر کا دیا لیکن ابھی بھی باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا۔تب تیسرا شخص اس دعا کے ساتھ خدا کے حضور جھکا اور کہا کہ اے خدا! تو جانتا ہے کہ میں بکریاں چرا یا کرتا ہوں اور دودھ پر میرا گزارا ہے۔ایک دن گھر پہنچنے میں دیر ہوگئی اور میرے ماں باپ جو میرے ساتھ تھے۔بہت بوڑھے تھے۔میرا طریق یہ تھا کہ اپنے چھوٹے بچوں سے پہلے اپنے ماں باپ کو دودھ پلا یا کرتا تھا۔جب میں دیر سے پہنچا تو میرے ماں باپ جو بوڑھے تھے سو چکے تھے۔میں نے پسند نہ کیا کہ انہیں جگاؤں اور ان کے پاس دودھ لے کر میں کھڑا ہو گیا کہ جب وہ جاگیں گے میں پلا دوں گا۔میرے بچے روتے رہے۔انہیں بھی بھوک لگی تھی لیکن میں ماں باپ کے لئے دودھ لے کر کھڑا رہا۔یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور صبح تک دودھ لے کر کھڑا رہا۔صبح جب وہ جاگے تو انہیں دودھ پلایا پھر اپنے بیوی بچوں کو بھی دیا۔پس اے خدا اگر میرا یہ کام تیری رضا اور خوشنودی کے لئے تھا اور دنیا کی کوئی غرض نہ تھی تو مجھ پر رحم فرما اور اس پتھر کو ہٹا دے۔چنانچہ طوفان کے ایک زور نے اس پتھر کو اور آگے سر کا دیا اور راستہ صاف ہو گیا اور وہ باہر آگئے۔(صحیح البخاری کتاب احادیث الانبیاء باب حديث الغار حدیث 3465) اب تین اشخاص نے تین قسم کے کام کئے تھے۔کسی نے مزدور کی مزدوری میں امانت کا حق