خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 484
خطبات مسرور جلد 12 484 خطبه جمعه فرموده مورخه 08 اگست 2014ء ہمیں دشمن کے شر سے بچنے کے لئے اپنی دعاؤں، جماعتی دعاؤں کے دھارے اس طرف کرنے کی ضرورت ہے۔اپنی دعاؤں کے دھارے اس طرف کرنے کی ضرورت ہے جہاں ہم دشمن کے شر سے بچ سکیں اور اس کے شر سے بچنے کے لئے ہم جتنی بھی دعائیں کریں وہ آجکل کی ضرورت ہے۔اس موقع پر مجھے اپنی ایک پرانی خواب بھی یاد آ رہی تھی جس کا میں پہلے بھی ایک دفعہ ذکر کر چکا ہوں کہ اگر جلد حالات بدلنے ہیں تو جماعت کو ان ابتلاؤں سے بچانے کے لئے من حیث الجماعت اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کی خاطر خالص کرتے ہوئے ، اپنی دعاؤں کو اس کے لئے خالص کرتے ہوئے ہمیں اس کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے۔اور اگر اس کیفیت میں ہم اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں گے، یہ کیفیت ساری جماعت میں پیدا ہو جائے اور ہماری راتیں اس کیفیت میں گزریں کہ ہم نے جماعت کے لئے دعائیں کرنی ہیں تو چند دن میں، چند راتوں کی دعاؤں سے انقلاب آ سکتا ہے۔ورنہ انقلاب تو آنا ہے، حالات تو بدلتے ہیں لیکن اپنا وقت لیں گے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ حالات بدلیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔جو پیغام مجھے دیا گیا تھا اس میں تمام جماعت جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کرتی ہے اُس کا خالص ہو کر دعا کرنا شرط ہے۔اس وقت بھی خواب میں مجھے یہی تاثر تھا کہ پاکستان کے احمدیوں کے لئے یہ پیغام ہے۔پس پاکستان کے احمدیوں کو چاہے وہ امیر ہیں ، غریب ہیں ، مرد ہیں، عورتیں ہیں ان کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ احمدیت کے حوالے سے اس وقت سب سے زیادہ ظلم پاکستان میں ہی ہو رہا ہے۔اور دنیا کے احمدیوں کو بھی عموماً اس طرف توجہ کی ضرورت ہے۔کیونکہ احمد بیت کی فتح سے ہی دنیا کی بقا وابستہ ہے۔مسلم امہ کا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا احمدیت کی فتح سے ہی وابستہ ہے۔ظلم و تعدی کا خاتمہ اسی سے وابستہ ہے۔پس چاہے وہ فلسطینیوں کو ظلم سے آزاد کروانا ہے یا مسلمانوں کو ان کے اپنے ظالم حکمرانوں سے آزاد کروانا ہے اس کی ضمانت صرف احمدیوں کی دعائیں ہی بن سکتی ہیں۔ان دعاؤں کا حق ادا کرنے کی ہمیں ضرورت ہے۔اس وقت ظلم کی چکی میں سب سے زیادہ احمدی پس رہے ہیں۔اس لئے ہماری دعائیں ہی مضطر کی دعاؤں کا رنگ اختیار کر کے نہ صرف اپنی آزادی بلکہ انسانیت کے لئے بھی ظلموں سے نجات کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔پس ہمیں اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :