خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 483
خطبات مسرور جلد 12 483 خطبه جمعه فرموده مورخه 08 اگست 2014ء غالباً ہیڈ ماسٹر نے یا کسی عقل والے نے ان سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جنگی قیدیوں کو بھی اس شرط پر رہا کرنے کا کہا تھا کہ جو تعلیم تمہارے پاس ہے، جو لکھنا پڑھنا تم جانتے ہو وہ اگر تم مسلمانوں کو سکھا دو تو تمہیں قید سے آزادی مل جائے گی۔حالانکہ یہ ان لوگوں کو کہا گیا جو اس نیت سے جنگ میں آئے تھے کہ مسلمانوں کو ختم کر دیں۔اس پر اس گاؤں کے لوگوں نے یہ کہا کہ ٹھیک ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کا فروں کو کہا ہو گا لیکن ہم نہیں مانیں گے کیونکہ یہ قادیانی ان کافروں سے بڑھ کر کافر ہیں اور ان کو تو قتل کرنا بھی جائز ہے۔اور یہ ڈھٹائی کسی بھی واقعہ کے بعد کم نہیں ہوتی۔یہ نہیں کہ انسانیت سوز مظالم دیکھ کر پھر کسی قسم کی شرم کا احساس ان میں پیدا ہو جائے بلکہ وہی حال رہتا ہے۔وہی لوگ جو گوجرانوالہ میں ہمارے احمدی گھروں کے ہمسائے تھے اور عام حالات میں بول چال اٹھنا بیٹھنا بھی تھا۔جب یہ واقعہ ہوا تو ان میں سے بعض ایسے بھی تھے جو خالی گھروں کو دیکھ کر لوٹ کھسوٹ میں شامل ہو گئے۔جب گراوٹ اس حد تک پہنچ جائے تو پھر سوائے انا اللہ کے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اب تو یہ لوگ اپنے خاتمے پر پہنچے ہوئے ہیں۔اور ان ابتلاؤں کے دور میں ہمیں پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے کی ضرورت ہے۔پس اپنی دعاؤں میں کمی نہ آنے دیں۔باقی مسلمان تو ایک دوسرے پر ظلم کا جواب ظلم سے کر اپنا حساب پورا کر لیتے ہیں لیکن ہم نے تو ہر ظلم کو آہ وفغاں میں ڈوب کر ختم کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر اس سے دعا مانگ کر ختم کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک شعر میں یہ فرمایا تھا کہ عد وجب بڑھ گیا شور وفغاں میں نہاں ہم ہو گئے یا ر نہاں میں سے دے (الحکم جلد 5 نمبر 45 مورخہ 10 دسمبر 1901ء صفحہ 3 کالم 2) (در ثمین اردو صفحہ 50 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ) پس یار نہاں میں ڈوبنے کی ضرورت ہے۔اپنے اندر وہ کیفیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو عرش کے پائے ہلا دینے والی ہو۔وہ دعائیں کرنے کی ضرورت ہے جن کا رخ ایک طرف ہو۔متفرق دعا ئیں نہ ہوں۔اس عزیز کی خواب میں جو یہ بتایا گیا ہے کہ میں اس کو کہ رہا ہوں کہ ابھی میں نے جماعت سے دعائیں کروانی تھیں۔تو جماعت سے من حیث الجماعت دعا کروانا جماعت کی کامیابیوں اور ترقیات کے لئے اور ان مشکلات کے دور ہونے کے لئے تھی۔پس جب ہماری یہ خواہش ہے کہ ابتلا کا یہ دور جلد ختم ہو تو