خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 479 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 479

خطبات مسرور جلد 12 479 خطبه جمعه فرموده مورخه 01 اگست 2014ء سانحہ گوجرانوالہ میں شہید ہونے والوں کے علاوہ محمد بوٹا صاحب کے بھائی مکرم فضل احمد صاحب کی اہلیہ محترمہ حمیرہ فضل صاحبه مع بچگان، بیٹی عطیہ البصیر عمر تین سال واقفہ نو شمر منیب عمر ایک سال اور طلحہ انصر بعمر ایک ماہ کے علاوہ محمد بوٹا صاحب کی ہمشیرہ مکرمہ مبشرہ جری صاحبہ اہلیہ مکرم جری اللہ صاحب آف قلعہ کالر والہ ضلع سیالکوٹ جو انہیں ملنے کے لئے آئی ہوئی تھیں زخمی ہو گئیں۔مبشرہ صاحبہ سات ماہ کی حاملہ تھیں جو وضع حمل اور عید کرنے کی غرض سے اپنی والدہ کے پاس آئی ہوئی تھیں۔جس بچے کے ضائع ہونے کا بتا یا وہ ان کا بچہ تھا جن کو پھر ربوہ میں بھجوایا گیا اور وہاں ان کا آپریشن کیا گیا۔اس وقت ان کی طبیعت کافی خراب ہی ہے۔ربوہ میں ہی طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں داخل ہیں۔ان کے پھیپھڑوں میں دھواں بھرنے کی وجہ سے سانس کی بڑی تکلیف ہے۔دیگر زخمی احباب جو ہیں ان میں منیب احمد لودھی عمر تینتیس سال حملہ آوروں کے تشدد سے زخمی ہوئے تھے۔ان پر حملہ کیا گیا تھا اور ان کا جبڑا اور دودانت ٹوٹے ہیں، کان بھی کٹ گیا ہے جبکہ جسم کے دیگر حصوں پر بھی چوٹیں آئی ہیں۔ان کا علاج بھی جاری ہے۔خلیل صاحب بوتل کے مارنے کی وجہ سے زخمی ہوئے۔محمد انور صاحب قلعہ کالر والہ سیالکوٹ کو جب واقعہ کا پتا چلا تو وہ اپنی ہمشیرہ حمیر افضل صاحبہ اور فضل احمد صاحب اور دیگر فیملی ممبران کی مدد کو پہنچے اور انہوں نے پہنچ کے پھر پولیس کو بلایا۔اس وقت تک زیادہ تر لوگ جاچکے تھے، اکا دُکا ہی تھے یا تھوڑے رہ گئے تھے تو پھر پولیس آئی ہے۔تب انہوں نے پولیس کی مدد سے اور ایمبولینس لا کے لوگوں کو نکالا اور جب وہ نکال رہے تھے تو کیونکہ بڑی آگ لگی ہوئی تھی، اندر سے لوگوں کو نکالنا تھا اس لئے اس دوران میں ان کو بھی آگ کی وجہ سے تھوڑے سے زخم آئے۔بوٹا صاحب کی اہلیہ محترمہ رقیہ بیگم صاحبہ اور دیگر دو بچے عزیزم عطاء الواسع عمر پانچ سال اور سدرۃ النور پر بھی اس سانحہ میں گیس اور دھوئیں کا اثر ہوا۔ان کی بھی طبیعت ٹھیک نہیں۔یہاں اس علاقے میں اٹھارہ گھر ہیں جو آپس میں باہمی رشتہ دار ہیں۔اس وقت بہر حال ربوہ میں ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا حملہ آوروں نے چھ گھروں کو سامان سمیت جلا دیا۔محمد افضل صاحب کا، اشرف صاحب کا ، بوٹا صاحب کا، سلیم صاحب کا اور خلیل صاحب کا اور فیروز دین صاحب کا گھر ہے۔جبکہ ماسٹر بشیر صاحب اور مبشر صاحب کے دو گھروں کی توڑ پھوڑ کی ہے ان کا صرف سامان نکال کے جلایا ہے۔اس کے علاوہ پانچ احمدی احباب کی دکانوں کو بھی مکمل طور پر لوٹنے کے بعد آگ لگا دی گئی۔اسی طرح حلقے کا جونماز سینٹر تھا اس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔اس میں موجود قرآن پاک کے نسخوں، جماعتی کتب اور دیگر سامان کو جلانے کے بعد نماز سینٹر کو بھی آگ لگا دی۔