خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 472 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 472

خطبات مسرور جلد 12 472 خطبه جمعه فرموده مورخه 01 اگست 2014ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ ہو احمدی سب سے پہلے اس حملے کا جواب دینے کے لئے وہاں موجود ہوتا ہے۔پس ہم تو وہ ہیں جو اپنی موت قبول کر سکتے ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے معمولی سے لفظ کو بھی برداشت نہیں کر سکتے۔اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں تعلیم دی ہے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو ہمارے عمل ہیں وہ کیا ہیں اور وہ جانتا ہے کہ جو ہمارے دل میں ہے وہ کیا ہے۔اس میں تضاد نہیں ہے۔یو نہی تو نعوذ باللہ ایک جھوٹے کی جماعت کو با وجود تمام دنیا کی مخالفت کے وہ ترقی پہ ترقی نہیں دے رہا۔وہ جانتا ہے کہ اُس کی جماعت ہے۔وہ جانتا ہے کہ اُس نے اس کو ترقی دینی ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے مومنوں کو جو میرے جاہ و جلال اور توحید کے قیام کے لئے اور میرے آخری نبی کی عزت و جلال کو قائم کرنے کے لئے صبح شام لگے ہوئے ہیں انہیں فتنے میں ڈالنے اور تکلیف دینے والوں، ان کے بدنوں کو جلانے والوں یا ان کے گھروں کو جلانے والوں یا جھوٹی باتیں ان کی طرف منسوب کر کے ان کے دلوں کو جلانے والوں کو میں چھوڑوں گا نہیں۔ان کو یقینا جہنم کی آگ میں ڈالوں گا سوائے اس کے کہ وہ تو بہ کر لیں۔اللہ تعالیٰ تو بہ قبول کر لیتا ہے اور معاف کر دیتا ہے۔لیکن اگر تو بہ نہیں کرتے تو یا درکھیں فَلَهُمْ عَذَابٌ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ۔جس طرح انہوں نے مؤمنوں کے دلوں کو جلایا یا ان کے بدنوں کو جلایا یا ان کے گھروں کو جلایا یا کوشش کرتے رہتے ہیں اور کبھی کامیابی ہوئی کبھی نہیں ہوئی۔اسی طرح انہیں بھی عذاب دیا جائے گا۔لیکن ایسے ظلم کرنے والوں کا عذاب دو طرح کا ہوگا۔ظاہری بھی اور باطنی بھی۔جلنے کا عذاب بھی اور جہنم کا عذاب بھی۔ہمارے دلوں کو تو یہ لوگ جھوٹے الزام لگا کر، اس ہستی کے بارے میں جو ہمیں اپنی جانوں سے بھی زیادہ پیارا ہے ہماری طرف جھوٹ منسوب کر کے دلوں کو جلانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کے دل تو اس وقت اس سچائی کو دیکھ کر حسد کی آگ میں جل رہے ہیں کہ جماعت احمد یہ کیوں ترقی کر رہی ہے۔کیوں ہماری تمام تر مخالفت کے باوجود جماعت کا ہر فرد اپنے ایمان پر قائم ہے۔کیوں ان کا ہر بچہ بوڑھا مرد اور عورت ہمارے سے خوف نہیں کھاتا اور ہمارے ظلموں کا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیوں کر رہا ہے؟ گوجرانوالہ کے رہنے والوں نے 1974 ء کے فسادوں میں بھی بہت قربانیاں کی تھیں اور اس کی ایک مثال قائم کی تھی۔اور آج بھی انہوں نے قربانیوں کی ایک نئی مثال قائم کر دی۔جس میں آٹھ ماہ کی بچی ، چھ سال کی بچی اور ایک عورت نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر قربانی کی ایک مثال قائم کی بلکہ ایک وجود جو ابھی اس دنیا میں نہیں آیا تھا جس نے ڈیڑھ دو ماہ بعد اس دنیا کو دیکھنا تھا وہ بھی ان