خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 467
خطبات مسرور جلد 12 467 خطبه جمعه فرموده مورخه 01 اگست 2014ء بلکہ یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کے بعد بعض نے کہنا شروع کر دیا اور اب بھی بڑے زور شور سے بعض جگہ کہا جاتا ہے کہ ہمیں اب کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہے۔اس لئے کہ مولوی اور نام نہاد علماء جو ہیں ان کے منبر چھن جاتے ہیں۔اس لئے کہ ان کے علم و عقل کی قلعی کھل جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے اس زمانے میں آنے کے بارے میں اور عین پیشگوئیوں کے مطابق آنے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : یہ عجیب امر ہے اور میں اس کو خدا تعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک 1290ھ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ مخاطبہ پا چکا تھا۔(حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 208) پھر کچھ عرصے بعد آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعوی بھی کیا اور آسمانی اور زمینی نشان بھی آپ کے حق میں پورے ہوئے۔جماعت کے لٹریچر میں اس کی تفصیل موجود ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں اس کی تفصیل موجود ہے۔میں اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جار ہا لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ کی تائیدات اس بات کی گواہ ہیں کہ یہ مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس یوم الموعود کے وقت یعنی مسیح موعود کے زمانے میں اسلام کی احیاء نو تو بیشک ہوگی۔اسلام کی نئی زندگی کا زمانہ تو شروع ہو گا لیکن اس کے لئے مومنوں کو، ان کو جو مسیح موعود کو مانیں گے بڑی بھاری قربانیاں دینی پڑیں گی۔فرمایا کہ قتل أَصْحَبُ الْأُخُدُودِ۔ہلاک کر دیئے جائیں گے کھائیوں والے۔النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ - یعنی اس آگ والے جو بہت ایندھن والی ہے۔اڈ هُمْ عَلَيْهَا قُعُود - جب وہ اس کے گرد بیٹھے ہوں گے۔یہ مخالفین کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس طرح کی مخالفتیں ہوں گی۔لیکن یہ آگیں جو بھڑکائی بھی جائیں گی اور اس کے گرد بھی بیٹھے ہوں گے۔یہ تو بیشک ہو گا لیکن انجام کار مخالفین اپنا بدا انجام دیکھیں گے۔وہ ہلاک کئے جائیں گے۔بہر حال مومنوں کو لمبا عرصہ جور و ستم اور بھیانک مظالم کا نشانہ بننا پڑے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اسلام کی ترقی ہم سے کچھ مطالبہ کرتی ہے اور وہ مطالبہ موت کا مطالبہ ہے۔(ماخوذ از فتح اسلام، روحانی خزائن جلد 3 صفحه 10) ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ بہت ایندھن والی آگیں تمہارے خلاف بھڑکائی جائیں گی۔