خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 466 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 466

خطبات مسرور جلد 12 466 خطبه جمعه فرموده مورخه 01 اگست 2014ء کے لئے ایسی جنتیں ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں یہ بعینہ اس واقعہ کا نقشہ کھینچ رہی ہیں جو گوجرانوالہ میں احمدیوں کے ساتھ ہوا۔یہ احمدیت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی ایک ایسی دلیل ہے کہ اگر انصاف پسند مسلمان سورۃ البروج پر غور کریں تو احمدیوں پر ہونے والے ظلم اور خاص طور پر ایسے ظلموں کے بارے میں اپنے علماء ، اپنے لیڈروں ، اپنے سیاستدانوں ، اپنی حکومتوں کے رویوں اور احمدیت کی مخالفت میں جو عمل یہ لوگ دکھاتے ہیں اور کرتے ہیں ان کی حقیقت کھل جائے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یقین کر لیں اور اس ظلم کا حصہ نہ بنیں جو ظالم لوگ یا ان کے چیلے احمدیوں پر کرتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کا کلام سمجھنے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کے ایک فرستادے کی ضرورت ہے۔لیکن ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اس کی بات تو یہ لوگ بالکل سنا نہیں چاہتے اور اس لئے ظلموں میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ان آیات کی مختصر وضاحت میں یہاں کر دیتا ہوں۔جس برجوں والے آسمان کی یہاں قسم کھائی گئی ہے اس سے مراد آسمان کے بارہ برج ہیں، ستارے ہیں سیارے ہیں جن کے بارے میں علم ہیئت والے بتاتے ہیں۔یہاں تمثیلی رنگ میں ان روحانی برجوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کا اسلام کی تاریخ سے اہم تعلق ہے اور اس سے مراد بارہ مجددین ہیں جو اسلام کے آسمان پر سورج غروب ہونے کے بعد اپنی روشنی دینے کے لئے چمکے یا کچھ عرصے کے لئے روشنی دیتے رہے۔اس عرصے کے بارے میں احادیث بھی موجود ہیں اور پرانے علماء بھی صاد کرتے ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ بارہ صدیوں میں بارہ دفعہ اسلام کے تاریک زمانے یا روشنی کی کرنیں پھیلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جولوگ بھیجے انہیں تو مسلمان مانتے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالْيَوْمِ الْمَوْعُود کہ وہ دن جس کا وعدہ دیا جاتا ہے، اس کی قسم کھا کر جب تیرہویں صدی میں اللہ تعالیٰ نے اس وعدے کے مطابق موعود مامور بھیجا تو انکار کرنے لگ گئے۔پہلوں کے بارے میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اتنا بتایا تھا کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آئیں گے۔سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب ما یذکر فی قرن المائة حديث نمبر (4291 لیکن اس موعود کے بارے میں خدا تعالیٰ نے بھی علیحدہ بیان کر دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف نشانیاں بتا کر جن میں چاند سورج گرہن کی نشانی بھی ہے اور بے شمار اور نشانیاں بتائیں کہ وہ آئے گا، جو روز روشن کی طرح پوری ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں۔لیکن اس کو یہ ماننے سے انکاری ہیں۔