خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 463
خطبات مسرور جلد 12 463 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جولائی 2014ء دے اور ہماری کوئی گھڑی رمضان سے جدا نہ ہو۔ہمیں ہمیشہ اس بات پر غور کرتے رہنا چاہئے کہ رمضان کیا ہے اور اس کی حقیقت کے بارے میں خدا تعالیٰ نے ہمیں جو بتایا ہے وہ یہ ہے جیسا کہ میں نے شروع کے پہلے خطبے میں رمضان کا ذکر کیا تھا که شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ (البقرة: 186 )۔وہ مبارک دن جن میں قرآن کا نزول ہوا رمضان کہلاتے ہیں اور جب قرآن کا نزول بند ہو جائے تو پھر وہ دن مبارک نہیں رہتے۔وہ تو پھر منحوس دن ہو جاتے ہیں۔پس مومنین کا فرض ہے کہ ان دنوں میں جو قرآن کریم کو پڑھنے اور سکھنے کی طرف توجہ رہی ہے اسے سارا سال اپنی زندگیوں کا حصہ بناتے رہیں۔سارا سال قرآن پڑھنے کی طرف توجہ دیں۔سارا سال اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔قرآن کریم کے نزول کا حقیقی مقصد تبھی پورا ہوگا جب ہم اس کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں گے۔اپنے دلوں پر نازل کر کے پھر اسے اپنے دلوں میں محفوظ کر لیں گے تاکہ زندگی کے ہر موڑ پر ہم اس سے فیض پاتے رہیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ جن دو باتوں کا آج میں نے ذکر کیا ہے ان کی طرف ہمیشہ ہماری توجہ قائم رہے۔اس کی حقیقت کو ہم جاننے والے ہوں۔ہماری لیلتہ القدر ہمیں کامیابیوں کی معراج پر لے جاتی رہے۔اس کا حقیقی ادراک ہمیں حاصل ہو اور یہ جمعہ جس کو جمعۃ الوداع کہا جاتا ہے یہ جو رمضان کا آخری جمعہ ہے اسے جمعتہ الوداع تو نہیں کہنا چاہئے ، رمضان کے مہینے کا یہ آخری جمعہ ہے۔یہ ہمیں رمضان کی برکات کو رخصت کرنے والا نہ بنائے بلکہ اس کا فیض ہماری زندگیوں کا حصہ بن جائے اور ہم قرآن کریم کے نزول کے مقصد کو پورا کرتے چلے جانے والے ہوں۔جیسا کہ میں پہلے بھی فلسطین کے مسلمانوں کی حالت کے بارے میں ذکر کر چکا ہوں۔دعاؤں میں خاص طور پر ان لوگوں کو بھی یادرکھیں۔اللہ تعالیٰ ان کے لئے آسانیاں پیدا کرے۔ان کو اس مشکل سے نکالے۔نماز کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو کرم نعیم اللہ خان صاحب آف قرغزستان کا ہے جو 21 / جولائی 2014 ء کو ہارٹ اٹیک سے 61 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُون۔ان کو وسطی ایشیا جماعتوں میں بالخصوص قرغزستان میں جماعت کے قیام میں غیر معمولی خدمات بجا لانے اور نائب نیشنل صدر جماعت قرغزستان کی حیثیت سے خدمت کی توفیق ملی۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے جب لوگوں کو وہاں جانے کی تحریک کی تھی تو یہ اس قت وہاں کاروبار کی نیت سے گئے