خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 460
خطبات مسرور جلد 12 460 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جولائی 2014ء یہ دیکھتے ہیں اور اس یقین پر قائم ہیں کہ میرا دوست میرا وفادار ہے اور اگر کوئی ایسا معاملہ کر رہا ہے جو بظاہر نقصان رساں نظر آ رہا ہے تو انسان یہی سمجھتا ہے کہ کیونکہ میرا وفادار دوست ہے اس لئے اس میں کوئی مصلحت ہوگی لیکن نتیجہ برانہیں نکلے گا۔مجھے نقصان پہچانے کی میرے دوست کی نیت نہیں ہے بلکہ فائدے کی نیت ہے۔تو خدا تعالیٰ کے متعلق یہ کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہمیں کوئی تکلیف پہنچانا چاہتا ہے لیکن جب اس کے احکام پر عمل نہ کیا جائے تو یقیناً یہی سمجھا جائے گا کہ ان کو مصیبت یا عذاب سمجھا جا رہا ہے۔اور اگر یہ صورت ہے تو پھر یا ہماری دوستی سچی نہیں یا پھر اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ اپنے اندر رحمت و شفقت کی صفات نہیں رکھتا اور ظالم اور تند خو اور سخت گیر ہے اور بلا وجہ یونہی گرفت میں لے لیتا ہے۔دوسری بات تو بہر حال سچی نہیں۔غلط ہے، جھوٹ ہے۔اللہ تعالیٰ تو بہر حال رحیم و شفیق ہستی ہے۔ہاں ہماری دوستی کی سچائی میں کوئی نقص ہوسکتا ہے۔کمزوری ہے تو ہمارے اپنے اندر ہے۔ہم اس کی رحمت و شفقت کا اپنے آپ کو اہل نہیں بنار ہے۔پس اس کی رحمت و شفقت کا اہل بنانے کے لئے ہمیں اپنی حالتوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کو رحمت اور فضل سمجھنے کی ضرورت ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے احکامات کو رحمت اور فضل سمجھا جائے تو پھر اس کو وداع نہیں کیا جاتا بلکہ ان پر عمل کر کے ایمانوں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔اپنے اندر یہ احکامات قائم کئے جاتے ہیں۔اپنے دلوں میں بٹھائے جاتے ہیں۔بعض سرکاری حکم تو ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان بعض دفعہ چٹی سمجھتا ہے یا غریب ملکوں میں، تیسری دنیا کے ملکوں میں سرکاری حکام ایسے ہیں جو قانون سے بڑھ کر بھی اپنے حکم جاری کر دیتے ہیں جولوگوں کی تکلیف کا موجب بنتے ہیں۔ان کا کسی جگہ میں آنا ہی لوگوں کے لئے تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔افسروں کے دورے جب ہوتے ہیں تو لوگ مشکل میں پڑے ہوتے ہیں۔اور پھر یہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اللہ کرے یہ افسر نہ ہی آئے۔اس سے کسی طرح جان چھوٹے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے احکام ظالم حاکم کی طرح نہیں ہوتے بلکہ رحمت ہوتے ہیں اور ان پر عمل نہ کرنا تباہی کی علامت بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا تو ہر حکم رحمت لے کر آتا ہے اور بے شمار رحمتیں چھوڑ کر جاتا ہے۔اب نماز ہے، نماز کا وقت اس لئے نہیں آتا کہ اس چٹی سے جلدی چھٹکارا حاصل کیا جائے۔یہ بوجھ پڑ گیا ہے اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور گھر سے اسے نکال دیا جائے۔اسی طرح رمضان ہے۔یہ اس لئے نہیں آتا کہ ہم اسے یونہی گزار دیں۔روزے فرض ہیں۔دنیا روزے رکھ رہی ہے تو ہم بھی ساتھ رکھتے چلے جائیں۔اسی طرح دوسری عبادات ہیں۔یہ اس لئے نہیں کہ ماحول کیونکہ ہمیں کہہ