خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 461 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 461

خطبات مسرور جلد 12 461 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جولائی 2014ء رہا ہے اس لئے انہیں ادا کرو اور جیسے تیسے ہو ان سے جان چھڑاؤ بلکہ مومن ہمیشہ ان چیزوں کو اپنے پاس رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔اگر ایک مومن ایک بار بھی سچی نماز خلوص دل سے ادا کر لیتا ہے پھر اس کے دل سے نماز نکل نہیں سکتی۔اس کا ایک عجیب مزہ ہوتا ہے جو اس کو آئندہ نماز پڑھنے کی طرف راغب کرتا ہے۔نماز ختم کرتے ہوئے سلام کہتا ہے مگر السلام علیکم اس لئے نہیں کہ ہم جا رہے ہیں، چھٹی۔بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کا حکم سمجھتے ہوئے سلام کہتا ہے۔اسی طرح مومن سے رمضان بھی نہیں جاسکتا۔حضرت مصلح موعود نے یہاں ایک بڑا اچھا نکتہ بیان فرمایا کہ ہمارے ملک میں محاورہ ہے، اردو میں محاورہ ہے کہ روزہ رکھا۔اب یہ بہت عمدہ محاورہ ہے کیونکہ جو روزہ گزرتا ہے اسے بھی رخصت نہیں کرتے بلکہ رکھ لیتے ہیں اور وہ ہمیں ہمیشہ کے لئے پھر خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنادیتا ہے۔حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر مومن سے کوئی خطا ہو جائے تو اس کے اعمال صالحہ اس کے لئے ڈھال بن کر اسے تباہی سے بچالیتے ہیں۔پس ہر نیکی کے متعلق یہ خیال رکھنا چاہئے کہ وہ جائے نہیں بلکہ قائم رہے کیونکہ فائدہ اسی سے اٹھایا جا سکتا ہے جو باقی رہے اور دل میں قائم ہو۔قرآن کریم میں بھی وَالْبقِيتُ الصلحت (الكهف : 47 ) کہ کر بتایا گیا ہے کہ نیک کام باقی رہنے والی چیزیں ہیں۔پس وہ رمضان جو ہم نے صالح اعمال کرتے ہوئے گزارا ہے وہ باقی ہے۔یہ دن بیشک گزر جائیں گے لیکن جب تک وہ نیک کام ہیں جو رمضان کے نتیجہ میں ہمارے اندر قائم ہوئے تو وہ رمضان کو نہیں جانے دیں گے۔مومن کو چاہئے کہ ہر اچھی چیز کو باقیات الصالحات بنائے۔دن گزر جائیں مگر رمضان نہ گزرے۔رمضان بھی ایک عبادت ہے اور عبادت گزرا نہیں کرتی۔وہ ہمیشہ ایک حقیقی مومن کے دل میں رہتی ہے۔پس ہمیں حقیقی مومن کی طرح رمضان کو اپنے دل میں بسانے کی ضرورت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ایک بندہ کوئی نیک کام کرتا ہے تو ایک سفید نشان اس کے دل پر لگ جاتا ہے۔پھر ایک اور نیک کام کرتا ہے تو ایک اور سفید نشان اس کے دل پر لگ جاتا ہے۔حتی کہ نیکیاں کرتا رہتا ہے اور سارا دل سفید ہو جاتا ہے۔اسی طرح جو برے کام کرتا ہے اس کے دل پر سیاہ نشان لگتے چلے جاتے ہیں اور اگر وہ بُرے کام کرتا چلا جائے تو آخر تمام دل سیاہ ہو جاتا ہے۔تو نیک اور بد دونوں قسم کے اعمال سمٹ کر انسان کے دل پر جمع ہو جاتے ہیں۔اس کو نشان لگا دیتے ہیں۔ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ نیک اعمال کو اپنے دل میں سمیٹیں۔اس رمضان میں جو نیکیاں کی ہیں وہ ہمارے اندر ہمیشہ قائم رہیں۔اللہ تعالیٰ رمضان کے ذریعہ سے جو چیزیں ہم میں پیدا کرنا چاہتا ہے