خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 455 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 455

خطبات مسرور جلد 12 455 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جولائی 2014ء اگر ماحول اچھا نہیں۔یہاں تک کہ خوفزدہ ماؤں کے بچے دنیا میں کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے بلکہ بعض دفعہ بیرونی خوف کی وجہ سے دماغی طور پر بچے کمزور پیدا ہوتے ہیں۔دورانِ حمل اچھی خوراک اور اچھے ماحول کابچے کی صحت پر اچھا اثر پڑ رہا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں دورانِ حمل عورت کا روزہ رکھنا جو ہے وہ ناپسند کیا گیا ہے، اس سے منع کیا گیا ہے کیونکہ اس سے بچے کی پرورش میں کمزوری واقع ہو جاتی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ شریعت نے ایسے مواقع پر طلاق کو بھی نا پسند کیا ہے کیونکہ اس سے جو صدمہ ہوتا ہے اس سے بھی بچے کی پرورش میں کمزوری ہو جاتی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ایسی حالت میں اسلام نے نکاح کو بھی نا جائز قرار دیا ہے کیونکہ اس سے جذبات کے ہیجان کی وجہ سے بچے کی پرورش پر برا اثر پڑتا ہے۔پھر اسلام نے میاں بیوی کو شیطانی خیالات سے بچنے کی دعا بھی سکھائی ہے تا کہ ایسے خیالات پیدا نہ ہوں جو آئندہ آنے والی اولاد میں بھی پیدا ہو جائیں۔یہ دعا دونوں کریں کہ ہماری رگوں میں خون کے ساتھ جو شیطان دوڑ رہا ہے۔( حدیث میں آتا ہے ناں کہ ہر انسان کی رگوں میں خون کے ساتھ شیطان دوڑ رہا ہے ) اسے ہم سے علیحدہ کر دے تا کہ اولادشیطان سے پاک ہو۔پس شریعت نے بچے کی پرورش کے لئے ان دنوں میں خصوصاً احتیاط سکھائی ہے جبکہ وہ ظلمات میں ہوتا ہے، اندھیروں میں ہوتا ہے اور یہ احتیاط کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا جب تک کہ ظلمات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اسی طرح بچے کے ماں کے دودھ کے پینے کے دن بھی اس سلسلے کی لمبائی ہیں (وہاں تک پھیلا ہوا ہے ) کیونکہ ان دنوں میں ابھی بچہ اپنی زندگی کے لئے دنیا کی طرف متوجہ نہیں ہوتا بلکہ ماں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ان دنوں میں بھی ماں کو روزے رکھنے کی ممانعت ہے تا کہ بچے کی پرورش اور اس کی صحت پر برا اثر نہ پڑے۔پس جس طرح جسمانی ترقیات ظلمت میں ہوتی ہیں اسی طرح روحانی ترقیات بھی رات میں ہی ہوتی ہیں۔ہر قوم کی روحانی ترقی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی اس قوم کی ابتدائی قربانی ہو اور اس کی ترقیات کی عمر کا معیار اس کی لیلتہ القدر ہوتی ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی شخص جتنا خدا کا پیارا ہو اتنے ہی اسے ابتلا پیش آتے ہیں۔پس ہمیں بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہم بھی بعض جگہ ابتلا میں سے گزر رہے ہیں۔یہ لیلۃ القدر ہی ہے۔اس ابتلا کی وجہ سے حقیقی لیلتہ القدر کی تلاش بھی اسی شدت سے ہوتی ہے۔دعاؤں کی طرف توجہ بھی اسی وقت پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف خاص طور پر انسان اسی وقت جھکتا ہے جب تکلیف میں بھی ہو۔جو تربیت اور پرورش کے دور کو پھر کامیابی سے گزارتی ہے۔لیکن اگر اس میں ہم اپنے اتفاق و اتحاد کے معیاروں کو ضائع کرتے گئے تو لیلتہ القدر کا صحیح فائدہ نہیں