خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 451
خطبات مسرور جلد 12 451 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جولائی 2014ء آپ نے 1944ء میں میٹرک پاس کیا۔پھر حضرت مصلح موعود کی خواہش پر ایگریکلچر کالج میں داخل ہو گئے۔پھر دارالضیافت کی ابتدائی کچی عمارت جو مسجد مبارک کے سامنے تھی اس کا انتظام حضرت مصلح موعود نے ان کے سپرد کیا۔موجودہ دارالضیافت کی ابتدائی تعمیر بھی آپ کے دور میں ہوئی۔82 83 یک افس لنگر خانہ کی حیثیت سے خدمات بجالاتے رہے۔پھر بطور نائب ناظر امور عامہ خدمت کی توفیق ملی۔پھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنی زمینوں کی نگرانی بھی ان کے سپرد کی۔ان کی شادی صاحبزادی صبیحہ بیگم صاحبہ بنت مکرم مرزا رشید احمد صاحب ابن حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے ساتھ ہوئی۔ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔اپنے پوتوں کی شادی میں حضرت اماں جان نے جو شرکت فرمائی ان میں سے ان کی شادی آخری تھی جس میں حضرت اماں جان شامل ہو ئیں تھیں۔ڈاکٹر نوری صاحب لکھتے ہیں کہ گزشتہ تین دہائیوں سے مجھے ان کی خدمت کا موقع ملا۔بہت شریف مہمان نواز اور پیار کرنے والے وجود تھے۔مہمان نوازی تو آپ کا بڑا اچھا بڑا نمایاں وصف تھا اور ایک یہ بھی نمایاں خوبی تھی کہ حسن مزاح بہت تھا اور اپنی مجلس میں لوگوں سے مذاق کیا کرتے تھے اور کبھی پریشان مجلس میں بھی اپنے مزاح کی وجہ سے جان پیدا کر دیا کرتے تھے۔ڈاکٹر نوری صاحب لکھتے ہیں کہ غریب اور نادار مریضوں کی امداد کے لئے طاہر ہارٹ میں اکثر آتے تھے اور مجھے رقم دے کے جایا کرتے تھے۔ہماری والدہ کے بھائی تھے۔ان کا خاص تعلق تھا۔ویسے تو ہر بھائی کا ہوتا ہے لیکن ان کا خاص تھا۔ہمارے گھر میں بہت زیادہ آنا جانا تھا اور اس تعلق کو قائم رکھا اور پھر خلافت کے بعد مجھ سے بھی انہوں نے بڑا تعلق رکھا۔اکثر یہاں فون کر کے بھی اس تعلق کا اظہار کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان سے بھی مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔ان کی اولا دکو بھی خلافت سے وفا کا تعلق قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ان کی اہلیہ بھی کافی بیمار ہیں اللہ تعالیٰ ان پر بھی رحم اور فضل فرمائے۔جیسا کہ میں نے کہا نماز جمعہ کے بعد یہ جنازے میں ادا کروں گا۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 08 اگست 2014ء تا 14 اگست 2014 ءجلد 21 شماره 32 صفحہ 05 تا08)