خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 447 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 447

خطبات مسرور جلد 12 447 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جولائی 2014ء شرط یہ بتائی کہ اپنے نیک کانشنس کو بیدار کرو اور سوچو کہ میں کن برائیوں میں مبتلا ہور ہا ہوں۔اپنے حالات پر پشیمانی اور شرمندگی کا احساس دل میں پیدا کرو۔اگر یہ حالت ہوگی تو پھر ہی برائی سے بچ سکو گے۔پھر فرمایا تیسری بات یہ ہے کہ ایک پکا اور مصمم ارادہ ہو کہ میں نے اب اس برائی کے قریب بھی نہیں جانا۔اور جب اس ارادے پر قائم رہنے کی ہر وقت کوشش کر رہے ہو گے تو پھر خدا تعالیٰ سچی توبہ کی توفیق دیتا ہے اور برائیوں سے بچنے کے لئے کی گئی دعاؤں کو بھی پھر سنتا ہے۔دعاؤں کے قبول ہونے سے پہلے یہ عمل کرنے کی ضرورت ہے۔یہ نہیں کہ صبح سے شام تک اور رات سے صبح تک غلط کاموں اور برائیوں میں ملوث رہے اور ایک وقت یا کسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کر لی کہ مجھے اس برائی سے بچا لے۔یہ عمل ظاہر کر رہا ہے کہ دعا سنجیدگی سے نہیں کی گئی۔وہ نیک فطرت جو کانشنس ہے جو اندر چھپا ہوا ہے اس نے کسی وقت یہ کچوکا لگادیا کہ تمہاری یہ کیا حالت ہے کہ برائیوں میں ڈوبے ہوئے ہو۔اس عارضی احساس سے دعا کی طرف وقتی توجہ پیدا ہو جائے اور پھر جب برائی کو سامنے دیکھے تو اس کی چاہت اس عارضی احساس کو ختم کر دے، ندامت پر حاوی ہو جائے۔ایسی حالت تو نہ برائیوں سے مستقل بچاتی ہے نہ دعا کا حق ادا کرنے والی بناتی ہے بلکہ یہ تو دعا کے ساتھ بھی مذاق ہے اور خدا تعالیٰ کو پابند کرنے کی کوشش ہے۔خدا تعالیٰ کسی بندے کا پابند نہیں ہے۔پس ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی بخشش سے حقیقی فیض اگر اٹھانا ہے، اس کے انعاموں کا وارث بننا ہے، اپنی دعاؤں کی قبولیت کو دیکھنا ہے تو پھر اپنی حالتوں کی طرف توجہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ایسا مہربان ہے کہ ہر وقت اس کی رحمت کی چادر اپنے بندوں کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لئے تیار ہے۔کیا یہ بات ہم سے اس بات کا تقاضا نہیں کرتی کہ ہم خود بھی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں پر چل کر اس کی بخشش اور رحمت کو حاصل کرنے والے بنیں۔ہم اس رحمت کو حاصل کرنے والے بنیں جو حقیقی مومنوں کو حاصل ہوتی ہے، جو اس کے پیاروں کو حاصل ہوتی ہے۔ان باتوں سے بچیں جو باوجود اس کی وسیع رحمت کے سزا کا مورد بنا دیتی ہے۔ہماری تو بہ سچی تو بہ ہو اور ہم ہمیشہ اس کے آگے جھکے رہنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :۔اپنے اعمال کو صاف کرو اور خدا تعالیٰ کا ہمیشہ ذکر کر وا ورغفلت نہ کرو۔جس طرح بھاگنے والا شکار جب ذراست ہو جاوے تو شکاری کے قابو میں آ جاتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے ذکر سے غفلت کرنے والا شیطان کا شکار ہو جاتا ہے۔تو بہ کو ہمیشہ زندہ رکھو اور کبھی مردہ نہ ہونے دو۔کیونکہ جس عضو سے