خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 446 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 446

خطبات مسرور جلد 12 446 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جولائی 2014ء ہیں کہ ہم نے فلاں برائی سے بچنے کے لئے دعا کی لیکن یہ برائی دور نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے ہماری دعائیں نہیں سنیں۔بعض ماں باپ پریشان ہوتے ہیں کہ بچوں میں یا بعض نوجوانوں میں غلط عادتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور کہتے ہیں ہم نے کوشش کی۔یہ دعا بھی کی بنی نہیں گئی۔تو یہ چیز غلط ہے۔اس کو میں آسان رنگ میں دوبارہ سمجھا دیتا ہوں۔دعا کی قبولیت کے لئے بھی کچھ لوازمات ہیں ان کو پورا کرنا ضروری ہے۔چار دن دعا کر کے یہ کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے دعا نہیں سنی یہ ویسے ہی اپنی نا اہلی کو خدا تعالیٰ پر ڈالنے والی بات ہے۔بہر حال اس وقت میں حضرت مسیح موعود کے اس اقتباس کے حوالے سے جو میں نے پڑھا ہے، یہی بتانا چاہتا ہوں کہ برائی سے کس طرح رکنا چاہئے اور تو بہ کا حصول کس طرح ہوتا ہے۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تو بہ کرنے اور برائیوں سے بچنے کے لئے کچھ ضروری باتیں ہیں کچھ عمل ہیں کچھ محنت ہے کچھ طریقے ہیں جن پر عمل کرنا ہو گا۔ان کو کریں گے تو تبھی نتیجہ حاصل ہوگا اور برائیوں سے بچنے کے لئے دعا بھی تبھی قبول ہوگی جب کچھ عملی اقدام بھی اٹھا ئیں گے عملی قدم کچھ نہ اٹھانا اور صرف سرسری دعا کر کے کہہ دینا کہ خدا تعالیٰ نے دعا قبول نہیں کی اس لئے شاید یہی مرضی ہے کہ میں گناہگار ہی رہوں تو یہ غلط ہے۔برے اعمال اور اخلاق کو اگر بہتر کرنا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تین باتیں پہلے خود انسان کرے پھر دعا کرے تو یہ دعا مددگار ہوتی ہے اور برائیاں پھر چھوٹ جاتی ہیں۔اور سچی توبہ کے لئے جیسا کہ میں نے حوالے میں پڑھا، آپ نے فرمایا کہ پہلی بات یہ ہے کہ گندے اور برے خیالات سے اپنے دماغ کو پہلے صاف کروں کسی بھی برائی کی لذت کا تصور پہلے دماغ میں پیدا ہوتا ہے تب انسان اس برائی کو کرتا ہے۔اگر دماغ میں برائی کا یا اس کی اچھائی کا یا لذت کا تصور پیدا نہ ہو اور کراہت ہو تو کبھی وہ برائی کرتا ہی نہیں۔اور پہلے کسی بھی برائی کی لذت کا تصور پیدا ہوتا ہے، احساس پیدا ہوتا ہے پھر انسان اس برائی کی طرف راغب ہوتا ہے۔پس پہلا عملی قدم جو انسان کو برائیوں سے بچنے کے لئے اٹھانا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے ذہن کو گندے تصورات یا عارضی لذات کے تصور سے پاک کرے۔اس کی مثال آپ نے یہ دی کہ جس طرح مثلاً کسی عورت سے ناجائز تعلقات ہوتے ہیں۔دوستیاں قائم ہو جاتی ہیں تو ایسی عورت کا اچھا تصور دماغ میں قائم کرنے کے بجائے بدصورت تصور قائم کرو۔بجائے یہ دیکھو کہ اس میں خوبصورتی کیا ہے اور کیا کچھ خوبیاں ہیں اس کا بدصورت ترین تصور جو قائم کر سکتے ہو وہ قائم کرو۔اس کے جو برے خصائل ہیں جو اس کی برائیاں ہیں ان کو سامنے لاؤ اور ایک ایسی شکل تصور میں قائم کرو جو سخت قسم کی مکروہ اور کر یہ شکل ہو تو تبھی اس برائی سے تم دور ہو سکو گے۔پھر دوسری