خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 443
خطبات مسرور جلد 12 443 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جولائی 2014ء سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شعبان کے آخری روز مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو! تم پر ایک عظیم اور بابرکت مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے۔اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے رکھنے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں کو قیام کرنے کو فل ٹھہرایا ہے۔هُوَ شَهْرُ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ وَاخِرُهُ عِتْقُ مِّن النار۔کہ وہ ایک ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی عشرہ رحمت ہے اور درمیانی عشرہ مغفرت کا موجب ہے اور آخری عشرہ جہنم سے نجات دلانے والا ہے۔اور جس نے اس میں کسی روزے دار کو سیر کیا اسے اللہ تعالیٰ میرے حوض سے ایسا مشروب پلائے گا کہ اسے جنت میں داخل ہونے سے پہلے کبھی پیاس نہ لگے گی۔(شعب الایمان للبيهقى جلد 5 صفحه 223 کتاب الصیام باب فضائل شهر رمضان حدیث نمبر (3336 یعنی یہ مغفرت ایسی ہے کہ اگر رمضان کا حق ادا کرتے ہوئے روزے رکھے جائیں اور نوافل ادا کئے جائیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے تو پچھلے گناہ بھی بخشے جاتے ہیں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ ہمارے لئے قدم قدم پر ایسے سامان پیدا فرما رہا ہے جو جنت میں لے جانے والے ہیں۔آجکل ہم رمضان سے گزر رہے ہیں اور دوسرے عشرہ کا بھی اختتام ہو رہا ہے۔کل پرسوں تیسرا عشرہ شروع ہونے والا ہے۔اور یہ عشرہ تو جیسا کہ حدیث میں بھی ہے اس لحاظ سے بھی برکتیں لئے ہوئے ہے کہ اس میں ایک ایسی رات ہے جو لیلتہ القدر ہے جو دعاؤں کی قبولیت اور بندے کو خدا کے قریب تر کرنے کے جلوے دکھانے اور دیکھنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔پس اس عشرہ میں ہمیں اپنی دعاؤں اور اپنی عبادتوں کے لئے خاص اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔جو کچھ اس میں حاصل کریں پھر اس کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی بھی خاص ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت سے فیض پاتے چلے جانے کے لئے خاص طور پر ان دنوں میں اپنی حالتوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کا حق ادا کرنے کی ضرورت ہے جو رمضان کا حق ہے اور خاص طور پر اس آخری عشرہ کا حق ہے۔اپنی برائیوں کو دور کرنے کے لئے ، آئندہ گناہوں سے بچنے کے لئے، جہنم سے مستقل نجات پانے کے لئے ایک کوشش کی ضرورت ہے۔ہر کام کے لئے ایک کوشش کرنی پڑتی ہے۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ کوئی کام بغیر کوشش کے ہو جائے۔یہ تو عام اصول ہے اور ایک حقیقی مومن سے اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی خوشخبریوں ، اللہ تعالیٰ کے پیغاموں، آنحضرت