خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 38
خطبات مسرور جلد 12 38 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جنوری 2014ء بچنے کی ضرورت ہے۔آجکل یہاں یورپین ملکوں میں بھی علاوہ ایسے نشوں کے جو زیادہ خطرناک ہیں ،شیشے کے نام سے بھی ریسٹورانوں میں، خاص طور پر مسلمان ریسٹورانوں میں نشہ ملتا ہے۔اسی طرح امریکہ میں حقے کے نام سے نشہ کیا جاتا ہے۔وہ خاص قسم کا حقہ ہے۔اور مجھے پتا لگا ہے کہ یہاں ہمارے بعض نوجوان لڑکے اور لڑکیاں یہ شیشہ استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس میں نشہ نہیں ہے یا کبھی کبھی استعمال کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔کوئی حرج نہیں ہے۔یا درکھیں کہ یہ کبھی کبھی کا جو استعمال ہے ایک وقت آئے گا جب آپ بڑے نشوں میں ملوث ہو جائیں گے اور پھر اس سے پیچھے ہٹنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔پس ابھی سے اپنی قوت ارادی سے کام لینا ہوگا اور اس برائی سے چھٹکارا پانا ہوگا۔اور اس کے لئے اپنے ایمان کو دیکھیں۔ایمان کی گرمی ہی قوت ارادی پیدا کرسکتی ہے جو فوری طور پر بڑے فیصلے کرواتی ہے جیسا کہ صحابہ کے نمونے میں ہم نے دیکھا، ورنہ قانون تو ان میں روکیں نہیں ڈال سکتے۔جیسا کہ میں نے کہا پاکستان میں قانون بھی ہے، ملتی بھی نہیں لیکن پھر بھی لوگ پیتے ہیں اور انتظام بھی کر لیتے ہیں۔انہوں نے کئی طرح کے طریقے اختیار کئے ہوئے ہیں۔امریکہ میں ایک زمانے میں کھلے عام شراب کی ممانعت کی کوشش ہوئی تو اس کے لئے لوگوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا اور سپرٹ (spirit ) پینا شروع کر دیا۔اور سپرٹ (spirit) پینے کے نقصانات بہت زیادہ ہیں تو اس کی وجہ سے لوگ مرنے بھی لگے۔حضرت مصلح موعود نے لکھا ہے کیونکہ ایمان نہیں تھا اس لئے دنیا وی قانون کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی بلکہ نشے کے ہاتھوں ایسے مجبور ہوئے کہ سپرٹ پی کر اپنے آپ کو نقصان پہنچا لیتے تھے۔حکومت نے پھر قانون بنایا کہ اگر ڈاکٹر اجازت دیں، بعض اسباب ایسے ہوں جو اس کو (justify) کرتے ہوں تو پھر شراب ملے گی اور ڈاکٹروں کا اجازت نامہ بھی بعض وجوہات کی وجہ سے تھا۔تو اس کا نتیجہ کیا نکلا کہ ہزاروں ڈاکٹروں نے اپنی آمدنیاں بڑھانے کے لئے غلط سرٹیفکیٹ جاری کرنے شروع کر دیئے۔تو ایسے ڈاکٹر جن کی پریکٹس نہیں چلتی تھی اُن کی اس طرح آمدنی شروع ہو گئی کہ شراب پینے کے سرٹیفکیٹ دے دیئے۔آخر ایک وقت ایسا آیا کہ قانون کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور آہستہ آہستہ اب ہر جگہ عمر کی پابندی کے ساتھ شراب ملتی ہے۔کہیں یہ عمر اکیس سال ہے، کہیں اٹھارہ سال ہے اور کہیں کہتے ہیں کہ اگر بڑا ساتھ ہو تو پندرہ سولہ سال، سترہ سال کے بچے بھی بعض خاص قسم کی شرا میں پی سکتے ہیں۔پس اپنے قانون کی بے بسی پر پردہ ڈالنے