خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 39
خطبات مسرور جلد 12 39 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جنوری 2014ء کے یہ بہانے ہیں۔جوں جوں ترقی یافتہ ہورہے ہیں برائیوں کی اجازت کے قانون پاس ہوتے چلے جا رہے ہیں۔برائیوں کو روک نہیں سکتے تو قانون میں نرمی کر دیتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کے احکامات میں جو برائی ہے وہ ہمیشہ کے لئے برائی ہے۔خدا تعالیٰ ہماری مرضی کا پابند نہیں بلکہ ہمیں اپنے اعمال کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکامات کا پابند ہونا ہوگا اور یہ پابندی اُس وقت پیدا ہوگی جب ہماری ایمانی حالت بھی اعلیٰ درجہ کی ہوگی۔آجکل کی جو ترقی یافتہ دنیا ہے وہ جس قوم کو جڑ اور جاہل کہتی ہے، جسے ان پڑھ بجھتی ہے وہ لوگ جو تھے انہوں نے اپنے ایمان کی حرارت کو اپنے نشے پر غالب کر لیا۔اپنے اعمال کی اصلاح کی اور پھر ایک دنیا میں اپنے اعمال کی برتری کا جھنڈا گاڑ کر دنیا کو اپنے پیچھے چلایا۔پس یہ واضح ہونا چاہئے کہ دین کے معاملے میں قوتِ ارادی اپنے ایمان کی مضبوطی ہے جو نیک اعمال بجالانے پر قائم رہ سکتی ہے اور برائیوں سے چھڑواتی ہے۔اس کے ساتھ ہی جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ قوت علمی ہے، اگر قوت علمی کسی میں ہو تو عمل کی جو کمزوری علم کی وجہ سے ہوتی ہے، وہ دور ہو جاتی ہے۔جس کے لئے عام دنیاوی مثال یہ ہے کہ بچپن کی بعض عادتیں بچوں میں ہوتی ہیں۔کسی کو مٹی کھانے کی عادت ہے تو جب اس کے نقصان کا علم ہوتا ہے تو پھر وہ کوشش کر کے اس سے اپنے آپ کو روکتا ہے۔اور بہت سی عادتیں ہیں۔مثلاً ایک بچی کا مجھے پتا ہے کہ اُسے یہ عادت تھی کہ رات کو سوتے ہوئے اپنے بال نوچتی تھی اور زخمی کر لیتی تھی۔لیکن اب بڑی ہو رہی ہے تو آہستہ آہستہ اُس کو احساس بھی ہو رہا ہے اور کوشش کر کے اس عادت سے چھٹکارا پا رہی ہے۔تو یہ عادت بہر حال علم ہونے سے ختم ہو جاتی ہے۔پس اسی طرح جس کو کچھ خدا کا خوف ہے، اگر اُسے عمل کے گناہ کا اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا صحیح احساس دلا دیا جائے اور اسے اس بات پر مضبوط کر دیا جائے کہ گناہ سے اللہ تعالیٰ کس طرح ناراض ہوتا ہے تو پھر وہ گناہ سے بچ جاتا ہے۔پھر تیسری چیز جس سے عملی کمزوری سرزد ہوتی ہے وہ عملی قوت کا فقدان ہے۔بعض لوگ شاید یہ سمجھ رہے ہوں کہ یہ باتیں دوہرائی جارہی ہیں۔بیشک بعض باتیں ایک لحاظ سے دوہرائی جارہی ہیں لیکن مختلف زاویوں سے اس کا ذکر ہورہا ہے تاکہ سمجھ آسکے۔بہر حال واضح ہو کہ قوت عملیہ کی کمی یاقوت عملیہ نہ ہونے کے بھی بعض اسباب ہیں۔مثلاً ایک سبب عادت ہے۔ایک شخص میں قوت ارادی بھی ہوتی ہے، علم بھی ہوتا ہے لیکن عادت کی وجہ سے مجبور ہو کر وہ عمل