خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 424 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 424

خطبات مسرور جلد 12 آپ فرماتے ہیں کہ :۔424 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جولائی 2014ء خاتم النبیین کا لفظ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بولا گیا ہے۔بجائے خود چاہتا ہے اور بالطبع اسی لفظ میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ کتاب جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے وہ بھی خاتم الکتب ہو اور سارے کمالات اس میں موجود ہوں اور حقیقت میں وہ کمالات اس میں موجود ہیں۔کیونکہ کلام الہی کے نزول کا عام قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ جس قدر قوت قدسی اور کمال باطنی اس شخص کا ہوتا ہے۔اس قدر قوت اور شوکت اس کلام کی ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدی اور کمال باطنی چونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کا تھا جس سے بڑھ کر کسی انسان کا نہ کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہوگا۔اس لئے قرآن شریف بھی تمام پہلی کتابوں اور صحائف سے اس اعلیٰ مقام اور مرتبہ پر واقع ہوا ہے جہاں تک کوئی دوسرا کلام نہیں پہنچا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استعداد اور قوت قدسی سب سے بڑھی ہوئی تھی اور تمام مقامات کمال آپ پر ختم ہو چکے تھے اور آپ انتہائی نقطہ پر پہنچے ہوئے تھے۔اس مقام پر قرآن شریف جو آپ پر نازل ہوا کمال کو پہنچا ہوا ہے اور جیسے نبوت کے کمالات آپ پر ختم ہو گئے اسی طرح اعجاز کلام کے کمالات قرآن شریف پر ختم ہو گئے۔آپ خاتم النبین ٹھہرے اور آپ کی کتاب خاتم الکتب ٹھہری۔جس قدر مراتب اور وجوہ اعجاز کلام کے ہو سکتے ہیں ان سب کے اعتبار سے آپ کی کتاب انتہائی نقطہ پر پہنچی ہوئی ہے۔یعنی کیا باعتبار فصاحت و بلاغت، کیا باعتبار ترتیب مضامین ، کیا باعتبار تعلیم ، کیا باعتبار کمالات تعلیم ، کیا باعتبارات ثمرات تعلیم ، غرض جس پہلو سے دیکھو اسی پہلو سے قرآن شریف کا کمال نظر آتا ہے اور اس کا اعجاز ثابت ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے کسی خاص امر کی نظیر نہیں مانگی بلکہ عام طور پر نظیر طلب کی ہے۔یعنی جس پہلو سے چاہو مقابلہ کر و۔خواہ بلحاظ فصاحت و بلاغت، خواہ بلحاظ مطالب و مقاصد ،خواہ بلحاظ تعلیم ، خواہ بلحاظ پیشگوئیوں اور غیب کے جو قرآن شریف میں موجود ہیں۔غرض کسی رنگ میں دیکھو، یہ معجزہ ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 36-37) پھر قرآن کریم کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے آپ ہمیں تو جہ دلاتے ہیں فرمایا کہ:۔اگر ہمارے پاس قرآن نہ ہوتا اور حدیثوں کے یہ مجموعے ہی مایہ ناز ایمان واعتقاد ہوتے (اگر صرف حدیثوں پر اعتقاد کرنا ہے ) تو ہم قوموں کو شر مساری سے منہ بھی نہ دکھا سکتے۔“ فرمایا ”میں نے