خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 423
خطبات مسرور جلد 12 423 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جولائی 2014ء قرآن کریم اعلان کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رمضان کے مہینے میں روزوں کے ساتھ جو ایک مجاہدہ ہے اس علم و عرفان کے خزانے کو پڑھنے اور سیکھنے کی بھی کوشش کرو اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بناؤ۔اس کے احکامات پر غور کرو اور اپنی زندگیوں پر لاگو کر و۔اس کے بھولے ہوئے حصے کو اس مہینے میں بار بار دہرا کر تازہ کرو۔اس کی تعلیمات کی جگالی کر کے اس مہینے میں اپنا جائزہ لو کہ کس حد تک تم قرآن کریم پر عمل کر رہے ہو۔یہ اللہ تعالیٰ ہمیں فرماتا ہے کیونکہ یہی باتیں ہیں جو دنیا و عاقبت سنوار نے والی بنتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ :۔یعنے قرآن میں تین صفتیں ہیں۔اول یہ کہ جو علوم دین لوگوں کو معلوم نہیں رہے تھے ان کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔دوسرے جن علوم میں پہلے کچھ اجمال چلا آتا تھا ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔تیسرے جن امور میں اختلاف اور تنازعہ پیدا ہو گیا تھا ان میں قول فیصل بیان کر کے حق اور باطل میں فرق ظاہر کرتا ہے۔“ ( براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 225 حاشیہ نمبر 11) پس یہ ایک ایسی جامع کتاب ہے اور مکمل کتاب ہے جس کا کوئی ثانی نہیں جس میں ہر چیز بکمل طور پر بیان کر دی۔تمام پرانے دینوں کی غلطیاں نکال دیں تمام پرانی کتابوں کی کمیاں پوری کر دیں۔اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ بھی احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس زمانے میں پیدا کیا اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی توفیق بھی عطا فرمائی اور یہ توفیق دے کر آپ کے ذریعہ سے قرآن کریم کی اہمیت و معرفت جاننے کے سامان بھی مہیا فرمائے۔قرآن کریم کے علوم و معرفت کے خزانے آپ نے ہمارے سامنے پیش فرمائے۔اس کا صحیح ادراک تو آپ کی کتب پڑھنے سے ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے۔بہر حال اس وقت میں قرآن کریم کے بارے میں آپ کے چند اقتباسات رکھوں گا جس سے قرآن کریم کے مقام واہمیت کا پتا چلتا ہے اور اس بارے میں ادا کرنے والی ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں ، ان کی طرف توجہ ہوتی ہے تا کہ ہم ان باتوں کو سامنے رکھ کر قرآن کریم کے پڑھنے پڑھانے اور عمل کرنے کی طرف توجہ دیں۔جو آیت میں نے تلاوت کی ہے یہ تو اس کے صرف اتنے حصے کی میں نے تھوڑی سی وضاحت کی ہے اب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اقتباسات آپ کے سامنے رکھوں گا۔