خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 418
خطبات مسرور جلد 12 418 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جولائی 2014ء دولت بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرتے ہیں۔کل یا پرسوں ہی میں ایک کتاب دیکھ رہا تھا۔بشیر رفیق صاحب نے چوہدی ظفر اللہ خان صاحب کے متعلق لکھی ہوئی ہے۔اس میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک سیاسی لیڈر بڑے امیر تھے۔یہاں آکر لندن میں ہوٹل میں ٹھہرتے تھے اور ایک پورا ونگ ہوٹل کا بک کرالیا کرتے تھے۔اپنی فیملی کے ساتھ آتے تھے۔ایک مرتبہ وہ آئے تو فیملی نہیں تھی اکیلوں نے ونگ بک کرا لیا اور انہوں نے کہا میرے پاس بڑی دولت ہے اور میں گھٹ کے کمروں میں نہیں رہ سکتا تو میں نے تو پورے کا پورا ونگ کرایا ہوا ہے۔چوہدری صاحب سے انہوں نے پوچھا کہ آپ کہاں رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں یہاں مشن ہاؤس کے فلیٹ میں کمرے میں بشیر رفیق صاحب کے ساتھ رہتا ہوں۔اور کھانا بھی ان کے ساتھ کھاتا ہوں۔کہنے لگے کہ اتنا پیسہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے تو کیوں آپ تنگی کرتے ہیں۔خرچ کریں۔جس طرح میرے پاس دولت ہے میں خرچ کرتا ہوں۔آپ کے پاس بھی دولت ہے خرچ کریں۔تو چوہدری صاحب۔پہلے تو سنتے رہے پھر کہنے لگے کہ تم تو فضول خرچی کرتے ہو لیکن میں اگر پیسے بچاتا ہوں تو اس سے میں طلباء کی تعلیم کے اوپر خرچ کر رہا ہوں۔ضرورتمندوں کی ضرورتیں پوری کر رہا ہوں اور بے انتہا ایسے لوگوں پر خرچ کر رہا ہوں جو مجبور ہیں۔پس جو سکون مجھے یہ خرچ کر کے ملتا ہے وہ تمہیں دنیا داروں کو نہیں مل سکتا۔چوہدی صاحب نے انہیں کہا کہ میں دعا کرتا ہوں کہ کاش تمہیں بھی اس سکون کا پتا لگ جائے پھر تم یہ جو اپنی دولت خرچ کر رہے ہو ،لٹا رہے ہو، تم اس کو اپنے اوپر لٹانا حقیر سمجھو گے اور یہی تمہاری خواہش ہوگی کہ غریبوں کی ضروریات پوری کروں۔(ماخوذ از چند خوشگوار یادیں از بشیر احمد رفیق صاحب صفحه 360 تا 362 مطبوعہ قادیان 2009ء) پس یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کما کر بھی دنیا سے بے رغبتی کی ہے اور ایسے ہی متقی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے دونوں جہان میں جنتوں کی بشارتیں دی ہیں۔اللہ کرے کہ ہم اس رمضان کے روزوں سے ایسا فیض پانے والے ہوں جو تقویٰ کے اعلیٰ معیاروں کو مستقل ہماری زندگی کا حصہ بنادے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتے ہوئے دونوں جہان کی جنتوں سے حصہ پانے والے ہوں۔ہمارا اس دنیا کا بھی انجام بخیر ہو۔آخرت کا بھی انجام بخیر ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر اسلام کی حقیقی تصویر بننے کی کوشش کرنے والے ہوں۔اسلام کے خلاف دشمن کے ہر حملے کو اپنے قول، اپنے عمل اور اپنی دعاؤں کو انتہا تک پہنچا کر رد کرنے والے ہوں۔اس کو اس پر الٹانے والے ہوں۔