خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 405
خطبات مسرور جلد 12 405 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014 ء ان کی ایک اور خوبی جو نوافل اور تہجد کی تھی میں نے دیکھی ہے۔ایک دفعہ ہم ایک لمبے سفر کے بعد ٹمالے میں ناردرن ریجن میں تھے وہاں یہ آئے اور بڑی خراب سڑک تھی ، بڑا تھکا دینے والا لمبا سفر تھا رات گیارہ بجے پہنچے۔کھانا وانا کھایا۔بارہ بجے فارغ ہوئے تو رات کو میری آنکھ کھلی اور باہر دیکھا تو مسجد کے صحن میں صفیں بچھی ہوتی تھیں اور وہاں انتہائی خشوع و خضوع سے نوافل پڑھ رہے تھے شاید رات کا ڈیڑھ بجا تھا۔پتانہیں کب سے پڑھ رہے تھے۔آدھا پونا گھنٹہ شاید سوئے ہوں گے اور پھر نفل شروع کر دیئے۔تھکاوٹ ہو یا کچھ ہو انہوں نے اپنے نوافل کبھی نہیں چھوڑے۔ایک دفعہ ٹمالے میں ہی ایک مربی صاحب نے غیر از جماعت لوگوں کے سامنے اور میرے سامنے بڑا غلط رویہ ان کے ساتھ اپنا یا۔یہ تو کچھ نہیں بولے۔مجھے غصہ آیا میں نے بھی ان مربی صاحب کو کچھ برا بھلا کہا۔انہوں نے اردو میں صرف اتنا کہا کہ ان غیر لوگوں کے سامنے تو جماعتی وقار کا کچھ خیال رکھا کرو۔لیکن خاموش رہے۔پھر انہوں نے مجھے کہا کہ دیکھو یہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ان کی اس بات کا غیر احمدیوں پر کیا اثر پڑے گا۔بڑا درد تھا اور صرف فکر تھی کہ جماعتی وقار اثر انداز ہو رہا ہے۔بہر حال ایسے لوگ پھر وقف میں رہتے بھی نہیں۔وہ مربی صاحب مرکز واپس گئے اور پھر وقف سے فارغ بھی کر دیئے گئے۔لیکن اس وقت وہاب صاحب کے صبر کو دیکھ کے مجھے بڑی حیرت ہوئی۔حالانکہ امیر تھے کوئی بھی ایکشن لے سکتے تھے۔جب میں گھانا میں ہی تھا تو کئی مرتبہ بڑے درد سے مجھ سے ذکر کیا کہ بعض مربیان جو ہیں وہ محنت کرتے ہیں اور بہت محنت کرتے ہیں لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو بالکل کام نہیں کرتے اور جواب دے دیتے ہیں کہ اس سے زیادہ کام نہیں ہوسکتا۔حالانکہ تبلیغ کے نئے سے نئے راستے کھولنے چاہئیں اور ہمیں پیغام پہنچانا چاہئے اور ان کی یہ بات سو فیصد صحیح تھی کہ بعض صرف یہی سمجھتے ہیں کہ جوطریق جاری ہو گیا ہے بس اس پر چلتے رہو اور لکیر کے فقیر بنے رہو۔نئے نئے راستے نہ نکالو۔بہر حال وہاب صاحب کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ ہر جگہ احمدیت کا پیغام پہنچے۔صحیح اسلام کا پیغام پہنچے اور اس کے لئے خود کوشش بھی کرتے تھے۔دوسروں سے بھی بڑی توقع رکھتے تھے اور اس کے لئے بے چین رہتے تھے۔دعائیں کرتے تھے۔پھر لالچ بھی کوئی نہیں تھی۔شروع میں جماعت کی طرف سے کارکنوں کو پاکستان میں ربوہ میں سستی قیمت پر کچھ پلاٹ ملا کرتے تھے۔اب گزشتہ سال انہوں نے یہاں علاج پر جماعت کا جو پیسہ خرچ ہو رہا ہے، شاید اُسے compensate کرنے کے لئے مجھے لکھا کہ وہ پلاٹ جو ہے جس کی لاکھوں روپے میں قیمت تھی