خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 403
خطبات مسرور جلد 12 403 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014ء کہا کہ آپ اس مسجد میں کیوں جا رہے ہیں؟ وہ تو احمدیوں کی مسجد ہے۔یہ سنتے ہی وہاب صاحب نے تبلیغ شروع کر دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق مسیح موعود کا ظہور ہو چکا ہے اور پوری تحقیق کے بعد ہم نے انہیں مان لیا ہے اور تم لوگ بیٹھے ہوئے ہو، قبول نہیں کر رہے۔تو وہاں مسجد فضل پہنچ کر بہت دیر تک بیٹھے رہے، مجھے تبلیغ کرتے رہے۔کہتے ہیں میں نے ان کو مذاقا اس وقت بڑی سنجیدگی سے کہا کہ سنا ہے آپ کا کلمہ بھی الگ ہے۔اس پر انہوں نے کہا ہمارا کلمہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله ہے۔پھر مجھے بازو سے پکڑ کے کھینچنے لگے کہ اندر آؤ میں تمہیں مسجد پر لکھا ہوا دکھا تا ہوں۔خیر کافی دیر کے بعد میں نے ہاتھ جوڑ کے کہا کہ میں تو آپ کو جانتا ہوں بلکہ آپ کا بڑا مداح ہوں اور احمدی ہوں اور حلقے کا قائد بھی ہوں، میں مذاق کر رہا تھا۔خیر اس پر بہت ہنسے۔انہوں نے کہا اگر تم مجھے نہ بتاتے تو میں نے تمہیں اٹھا کر لے جانا تھا۔اور انہوں نے ان کو اٹھا کے لے بھی آنا تھا۔جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ ربوہ میں امیر مقامی رہے۔تو عطاء المجیب صاحب نے لکھا ہے کہ مجھے بھی یہ یاد ہے کہ خلیفہ اسیح الثالث چند روز کے لئے ربوہ سے باہر اسلام آباد گئے۔وہاب صاحب کو امیر مقامی مقرر کیا اور مولانا ابوالعطاء صاحب کو نائب امیر مقرر کیا اور یہ ہمیشہ اس پر آبدیدہ ہو جاتے تھے۔بلکہ جب میں گھانا میں تھا تو مجھے بھی انہوں نے کئی دفعہ بتایا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث مجھے ایک سبق دینا چاہتے تھے ، ایک نصیحت کرنا چاہتے تھے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا اپنا انداز تھا اور نصیحت تھی کہ بعض گھانین کی بعض باتیں بعض جگہ سے پہنچ رہی تھیں کہ ہمارا جو گھا نین مشنری ہے، قابل ہے، لائق ہے اس کو کیوں ہمارا امیر نہیں بنایا جاتا۔کیوں ہمارا امیر پاکستانی ہے۔تو یہ سبق تھا کہ تم اپنے گھانا کی باتیں کر رہے ہو، میں تمہیں ربوہ کا امیر مقامی بنا رہا ہوں۔خود وہاب صاحب اس پر ہمیشہ کہتے تھے کہ مجھے اس سے بڑی نصیحت حاصل ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ پھر انہوں نے وہاں کی جماعت میں خلافت کے لئے ایک بڑا احساس پیدا کیا، ایسا جو اُن کے دلوں میں گڑھ گیا۔اسی طرح گزشتہ سال جب یہ یہاں تھے تو گھانا کی جماعت نے یہ فیصلہ کیا کہ اس سال جلسہ نہ کیا جائے ، ہمارے انتظامات ٹھیک نہیں ہوتے۔اس پر میں نے ذرا تھوڑا سا ناراضگی کا اظہار کیا اور وہاب صاحب کو کہا کہ آپ یہاں آگئے ہیں اور لوگ اس قسم کی سوچیں سوچنے لگ گئے ہیں۔یہ کیا ہورہا ہے؟ تو بلال صاحب کہتے ہیں کہ یہ اس بات پر بڑے افسردہ تھے۔ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے لیکن اس دن بڑی گہری سوچ میں رہے اور ان کو فون کیا تو دھیمی آواز میں ہلکی آواز میں کچھ کہتے بھی رہے۔کہتے ہیں کہ صرف