خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 402 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 402

خطبات مسرور جلد 12 402 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014 ء تعداد میں جماعت پھیل جائے گی اور خوب ترقی ہوگی تو آپ لوگ بڑے خوش قسمت ہیں کہ اس کا حصہ بن رہے ہیں۔پس یہ یقین تھا اور اس یقین پر اظہار کہ جن مبلغین نے ابھی وہاں قدم رکھے ہیں انہیں بھی مبارک ہو کہ وہ اس آئندہ تاریخ کا حصہ بننے والے ہیں۔اسی طرح ملک مظفر صاحب کہتے ہیں۔سیاسی اثر و رسوخ کا ایک دفعہ اس طرح اندازہ ہوا کہ خاکسار اکرا ( Accra) سے ٹیما ( یہ دو شہر ہیں ) جا رہا تھا۔راستے میں بیریئر (Barrier) تھا، وہاں اخبار فروخت ہو رہا تھا۔اخبار کے سرورق پر وہاب صاحب کی نمایاں فوٹو نظر آئی تو میں نے مقامی مبلغ سے معلوم کرایا تو انہوں نے بتایا کہ ابھی چند ہفتے پہلے گھانا میں جنرل الیکشن ہوئے تھے اور موجودہ پارٹی اور حزب اختلاف نے صرف معمولی فرق کے ساتھ الیکشن جیتے تھے جو کہ حکومت مان نہیں رہی تھی۔اس موقع پر بڑے ہنگامے اور بدامنی کا خطرہ تھا۔وہاب صاحب نے دونوں پارٹیوں کے لوگوں سے مل کر پرامن انتقال اقتدار کے لئے جو بھر پور کوشش کی ہے یہ خبر اسی کے لئے ہے اور قوم اس کو سراہ رہی ہے۔شمشاد صاحب آجکل امریکہ میں مبلغ ہیں۔یہ گھانا میں بھی رہے ہیں۔کہتے ہیں میرا تبادلہ سیرالیون ہو گیا تو میں جس شہر میں تھا وہاں کے لوگ ایک وفد بنا کر امیر وہاب صاحب کے پاس گئے کہ ان کو ابھی یہیں رہنا چاہئے تو اس پر وہاب صاحب نے کہا دیکھو ایک جماعت کا صدرا اپنی جماعت کی فلاح و بہبود چاہتا ہے کہ وہاں ترقی ہو۔ریجنل چیر مین چاہتا ہے کہ وہاں ریجن میں ترقی ہو۔ملک کا امیر چاہتا ہے کہ اس کے ملک میں ترقی ہو تو سب سے اوپر ہمارے خلیفہ اسیح ہیں کہ جو سب دنیا میں ترقی دیکھنا چاہتے ہیں اس لئے کون سا آدمی کہاں موزوں ہے ان کو سب سے زیادہ پتا ہے۔اگر اس کا تبادلہ گھانا سے سیرالیون میں ہو رہا ہے تو ان کو پتا ہے کہ اس کی خدمات کی وہاں ضرورت ہے۔اگر خلیفتہ اسیح کو یہ لکھا جائے کہ یہاں رہنے دو تو یہ سوء ادبی ہے۔اور پھر ان کو بتایا، سمجھایا کہ دیکھو میں آپ کے جذبات کا احترام کرتا ہوں لیکن اس کے باوجود خلیفہ المسیح کے حکم کی تعمیل ہمارا فرض ہے اور پھر مزید ان کو پھر اہمیت بتائی کہ خلافت کی کیا اہمیت ہے اور کیا برکات ہیں۔اس طرح ان لوگوں کو بھی مزید یہ ادراک اور فہم حاصل ہوا کہ کس طرح خلافت کا احترام کرنا ہے۔مبارک صدیقی صاحب ایک واقعہ اور لطیفہ بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ وہاب آدم صاحب یہاں آئے تھے تو ایک دن میری ٹیکسی پر بیٹھے اور لندن مسجد چلنے کے لئے کہا۔میں تو انہیں جانتا تھا لیکن وہ نہیں جانتے تھے۔مجھے شرارت سوجھی ( وہ حسب عادت کرتے رہتے ہیں ) کہتے ہیں کہ میں نے ان سے