خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 401
خطبات مسرور جلد 12 401 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014ء سے پیش آتے تھے۔کہتے ہیں ایک دفعہ میں رخصت پر پاکستان گیا تھا۔واپس آیا تو کسی دوست کو کہا کہ فلاں وقت رات گیارہ بجے فلائٹ آنی ہے تم مجھے لینے آجانا۔کہتے ہیں جب میں جہاز سے اتر کر باہر آیا ہوں تو میری حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ اس وقت بھی رات کو عبد الوہاب آدم صاحب ائیر پورٹ کے اس دروازے پر کھڑے تھے جہاں سے اتر کر ائیر پورٹ میں داخل ہوتے ہیں اور امیگریشن وغیرہ کلیئر کروا کے اور دعا کے ساتھ پھر انہوں نے ان کو آگے رخصت کیا اور کہتے ہیں کہ خلفاء کے خط لکھوانے کا احترام اس طرح سکھایا کہ بعض دفعہ خلیفہ وقت کو اردو خط لکھتے ہوئے رپورٹ میں کوئی غلطی ہو جاتی تھی تصیح کے لئے جب اس پر ٹیکس (Tippex) لگاتے تھے تو کہتے تھے اس طرح نہیں۔یہ پورا خط دوبارہ لکھو کیونکہ خلیفہ وقت کے پاس اس طرح جانا بے ادبی ہے۔مرز انصیر احمد صاحب بھی لکھتے ہیں کہ کام کو دوسرے وقت پر اٹھا نہیں رکھتے تھے۔بڑے جذبے سے کام کرتے تھے اور کام ختم کر کے ہی اٹھتے تھے۔اسی طرح دوسروں کو بھی بڑاencourage کرتے تھے جو کام کرنے والے ہیں۔اور ایک دفعہ وا (Wa) میں جو وہاں سے تین چارسوکلومیٹر دور ہے ایک فنکشن تھا۔مرزا صاحب کو ساتھ لے گئے۔وہ کچی اور بڑی ٹوٹی ہوئی سڑک ہے۔صرف کچھی نہیں بلکہ بے انتہا جھٹکے۔خیر بڑا المبا سفر کر کے جب وہاں پہنچے تو پتا لگا کہ فنکشن تو ملتوی ہو گیا ہے۔اور بڑا تکلیف دہ سفر ہوتا ہے لیکن کچھ انہوں نے اظہار نہیں کیا اور کسی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا گو کہ ہیڈ ماسٹر صاحب نے وہاں پہلے اطلاع دے دی تھی لیکن تار کا نظام بھی ایسا ہی تھا کہ اطلاع نہیں پہنچ سکی۔پھر بہت سارے لوگ ہیں، ایسے واقفین زندگی ہیں جو لکھتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے لئے بعض دفعہ وہاں حالات کی وجہ سے دودھ وغیرہ میسر نہیں ہوتا تھا تو فوراً اس کا انتظام کرتے تھے۔یہ مجید بشیر صاحب نے اور ان کے علاوہ اوروں نے بھی لکھا۔پھر ڈاکٹر عبدالخالق صاحب کہتے ہیں کہ ربوہ میں ایک دفعہ ملے تو تعارف نہیں تھا۔پھر میں نے بتایا کہ میں مولانا غلام باری سیف صاحب کا بیٹا ہوں۔تو پھر دوبارہ اٹھ کے گلے لگایا کہ آپ تو میرے استاد کے بیٹے ہیں اور بڑے احترام سے پیش آئے۔رشین ڈیسک والے خالد صاحب کہتے ہیں کہ جب میں نے ایک دفعہ ان کو بتایا کہ میں رشیا سے آیا ہوں تو کہنے لگے تم بڑے خوش قسمت ہو۔You are very lucky person۔کہتے ہیں میں نے حیران ہو کر کہا یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ آپ اور آپ کے مبلغین جو وہاں رشیا میں کام کر رہے ہیں بڑے خوش قسمت ہیں۔تو اس پر کہنے لگے کہ ایک نبی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی ہے کہ وہاں بڑی