خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 392 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 392

خطبات مسرور جلد 12 392 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014ء سے یہ ایک دو ہی تھے جو مبلغ بنے باقی چھوڑ کے چلے گئے تھے یا کچھ عرصے بعد تعلیم حاصل کر کے اپنے اپنے کام کرنے لگ گئے۔وہاب صاحب کا ایک واقعہ ہے۔کہتے ہیں کہ جامعہ احمد یہ ربوہ میں جب زیر تعلیم تھے تو ایک مرحلے پر پہنچ کر بعض مضامین میں مثلاً منطق اور فقہ کو اردوزبان میں سمجھنے میں دقت محسوس کی۔امتحان سر پر آ گیا۔بڑے پریشان تھے۔ان کے دوست امری عبیدی صاحب تنزانیہ کے تھے۔انہوں نے بھی اس زمانے میں جامعہ پڑھا تھا ، جو بعد میں وہاں کے وزیر بھی بنے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ مولانا غلام رسول صاحب راجیکی کے پاس جا کر دعا کے لئے کہتے ہیں۔خیر یہ ان کے پاس گئے۔حضرت مولانا راجیکی صاحب کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔ان کو دیکھ کے انہوں نے کتاب ایک طرف رکھ دی اور دریافت کیا کہ کیا مسئلہ ہے؟ امری عبیدی صاحب نے اور وہاب صاحب دونوں نے کہا کہ ہمارے امتحان ہو رہے ہیں اور ہمیں بڑی مشکل پیش آ رہی ہے، دعا کے لئے کہنے آئے ہیں۔تو انہوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔انہوں نے کہا تم بھی میرے ساتھ دعا میں شامل ہو۔دعا کے بعد حضرت مولانا راجیکی صاحب کہنے لگے کہ میں نے دعا کرتے ہوئے کشفی حالت میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک کو آپ دونوں کے سروں پر رکھا ہوا دیکھا ہے جس کی تعبیر میں یہ سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت اقدس علیہ السلام کی برکت سے آپ کو کامیابی بخشے گا۔چنانچہ کہتے ہیں ایسا ہی ہوا اور معجزانہ طور پر وہ پڑھائی آسان ہو گئی۔تیاری آسان ہو گئی۔جب امتحان دیا تو پرچوں کو بہت آسان پایا اور جب نتیجہ نکلا تو وہاب آدم صاحب اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن پر تھے۔بعض اور سعادتیں بھی ان کے حصے میں آئیں۔وہاب صاحب سب سے پہلے افریقن مرکزی مشنری تھے۔سب سے پہلے گھا نین امیر و مشنری انچارج یہ تھے۔سب سے پہلے افریقن احمدی جنہیں حضرت خلیفہ اسیح کی نمائندگی میں بطور امیر مقامی ربوہ بننے کی سعادت حاصل ہوئی وہ یہ تھے۔سب سے پہلے افریقن مرکزی مشنری جنہیں یورپ میں خدمت کی توفیق ملی وہ یہ تھے۔پھر سب سے پہلے افریقن جنہیں مجلس افتاء کا اعزازی ممبر بنے کی توفیق ملی وہ وہاب صاحب تھے۔ان کو مرکز کی نمائندگی میں مختلف ممالک جیسے کینیڈا، جرمنی ، بین، مالی، آئیوری کوسٹ، نائیجیریا، برکینا فاسو، لائبیریا ،سیرالیون، جمیکا کے دورہ جات کی توفیق ملی۔ان کو اسلام اور رنگ ونسل میں امتیاز اور اسلام اور عیسائیت کے بارے میں ریسرچ اور مضامین لکھنے کی توفیق عطا ہوئی۔والدہ کے نام پر انہوں نے ایک فاؤنڈیشن بھی جاری کی ہے جو