خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 389 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 389

خطبات مسرور جلد 12 389 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014 ء مہینے تک خط نہیں پہنچتے تھے۔پس ایسے علاقوں کے لوگوں کا دین سیکھنے کے لئے مرکز سلسلہ میں آنا اور کامل شرح صدر کے ساتھ دین سیکھنا اور اپنی زندگیاں دین کے لئے وقف کر دینا اور پھر کامل وفا کے ساتھ اس وقف کو نبھانا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کی تکمیل میں ہر قربانی کے لئے تیار ہو جانا یہ بات جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی دلیل ہے وہاں ایسے لوگوں کی قربانی کو آج تک، اب تک جاری رکھنا خلافت احمدیہ کی سچائی کی بھی دلیل ہے۔اور یہ چیز اس بات کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ ایسے لوگ سعید فطرت ہوتے ہیں اور ان کی اس خصوصیت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی رحمت کی نظر ان پر پڑتی ہے اور انہیں چن کر پھر آسمان کا چمکتا ہوا ستارہ بنادیتی ہے۔اس وقت میں ایک ایسے ہی مخلص خادم سلسلہ اور فدائی خادم سلسلہ مکرم عبدالوہاب آدم صاحب کا ذکر کروں گا جو افریقہ کے ایک ملک سے اس وقت مرکز سلسلہ میں حصول علم دین اور خلافت کا سلطان نصیر بننے کے لئے آئے ، یہ عزم لے کر آئے کہ میں نے اب اس کام کو اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ بروئے کار لانا ہے۔اس وقت آئے جب ابھی ربوہ آباد ہو رہا تھا اور افریقہ میں رابطے بھی مہینوں بعد ہوتے تھے۔یہ ہمارے پیارے بزرگ بھائی اور خلافت کے جان نثار سپاہی ، خلیفہ وقت کے اشارے پر چلنے والے، ہر فیصلہ جو خلیفہ وقت کی طرف سے آئے اسے شرح صدر سے قبول کرنے والے، خلیفہ وقت کے چھوٹے چھوٹے حکم بلکہ خواہش کی تکمیل کے لئے بھی بے چین رہنے والے تھے۔میں نے جب آٹھ سال سے زیادہ عرصہ گھانا میں ان کے ساتھ کام کیا ہے اس وقت بھی خلافت کے ساتھ تعلق میں ایسا ہی انہیں دیکھا جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں اور خلافت کے بعد میرے ساتھ بھی اطاعت وفرمانبرداری اور وفا کے اس معیار میں انہوں نے سرِ مو فرق نہیں آنے دیا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں گزشتہ دنوں وہاب آدم صاحب کی وفات ہوئی ہے۔انا للہ وانا الیہ راجِعُونَ۔گزشتہ تقریباً ایک سال یہاں رہے تھے اور مارچ میں ہی یا فروری کے آخر میں واپس گئے تھے۔اس خادم سلسلہ کا خدمت سلسلہ کا عرصہ نصف صدی سے زائد پر پھیلا ہوا ہے۔ان کی خدمات اور ان کی شخصیت اور ان کے کردار اور ان کی وفاؤں کے قصوں کو مختصر وقت میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔بہر حال کچھ باتیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس سے ان کی سیرت کے بعض پہلونما یاں ہوتے ہیں۔پہلے تو یہ کہ ان کے خاندان میں احمدیت ان کے والد اور والدہ کے ذریعہ آئی تھی۔ان کے بیٹے حسن وہاب صاحب نے بتایا کہ وہاب آدم صاحب پیدائشی احمدی تھے اور ان کے والد سلیمان۔کے۔آدم