خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 376 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 376

خطبات مسرور جلد 12 376 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جون 2014ء کوسو دو سے آنے والے ایک دوست نے بتایا کہ میں پہلی دفعہ آیا ہوں اور حکومتی محکمے میں کام کرتا ہوں۔میں نے کل بیعت کی ہے۔میں کبھی سوچ نہیں سکتا تھا کہ ایسا عظیم الشان جلسہ ہو سکتا ہے۔اگر جرمنی کا ملک بھی یہ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔صرف جماعت احمدیہ کی ہی یہ خوبی ہے کہ وہ ایسا عظیم الشان جلسہ کر سکتی ہے جس میں صرف امن ، محبت، پیار اور رواداری ہو۔بوسنیا کے وفد کی ایک ممبر خاتون نے مجھ سے ملاقات میں مجھے بتایا کہ میں نے بہت سے سوالات آپ سے پوچھنے تھے۔لیکن آپ کا جو جلسے والا خطبہ جمعہ سنا تو اس میں سارے سوالات کے جواب دے دیئے گئے ہیں اور میرے تمام سوالوں کا جواب مل گیا ہے۔اب میرا کوئی سوال نہیں رہا۔میں اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتی ہوں کہ خلافت کے تابع ہوں۔انہوں نے بیعت بھی کی تھی۔ان کو میں نے بتایا بھی کہ یہ خطبہ تو پرانے احمدیوں کے لئے تربیت کے لئے تھا، تمہارے سوال کیا ملے لیکن انہوں نے کافی نکات اس میں سے نکالے کہ جن کا صحیح فہم و ادراک حاصل ہوا۔تو اللہ تعالیٰ اس طرح بھی لوگوں کے دلوں کو کھولتا ہے کہ کوئی بات کسی کے دل پر اثر کر جاتی ہے اور وہی اس کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے، ہدایت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔جرمنی میں جرمنوں سے ایک علیحدہ خطاب بھی ہوتا ہے۔اس میں تقریباً دوسو جرمن اور دوسری قوموں کے لوگ تھے۔تقریباً گل چار سو سے اوپر یا ساڑھے چارسو کے قریب تھے۔اور ایک سیاستدان دا گنر صاحب ہیں۔میرا کہتے ہیں کہ میں تین سالوں سے جلسے کے موقع پر ان کے خطابات سن رہا ہوں لیکن آج کے خطاب نے مجھے بہت متاثر کیا ہے کیونکہ بہت واضح خطاب تھا۔ٹو دی پوائنٹ (to the point) تھا اور امن کے لئے بہت اچھی کوشش ہے اور مجھے سارے سوالوں کے جواب مل گئے۔تو غیروں کو بھی اس طرح اللہ تعالیٰ اطمینان کرواتا ہے۔یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک بڑی حیران کر دینے والی بات ہے کہ اتنا بڑا مجمع کتنے امن وسکون کے ساتھ رہ رہا ہے۔کوئی بھی کسی قسم کا مسئلہ کھڑا نہیں کر رہا۔اگر اتنا بڑا مجمع جرمن لوگوں کا ہوتا تو کچھ لوگ ان میں ضرور ہوتے جو ماحول کو خراب کرتے۔ایک مہمان کارل ہینز (Karl Heinz) صاحب نے میرا خطاب سننے کے بعد کہا کہ وہ باتیں کہی ہیں جو پوپ نے بھی کبھی نہیں کہ سکتی تھی۔میڈیا میں مسلمانوں کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسا کہ وہ سارے تشدد پسند ہوں اور ان کے خلاف اکسایا جاتا ہے اور عیسائیوں کو بطور معصوم پیش کیا جاتا ہے۔آج مجھے اسلام کی حقیقی اور سچی تعلیم کا علم ہوا ہے۔پھر کہتے ہیں ایک پر امن ماحول ہے۔بڑی تعجب کی بات ہے