خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 362
خطبات مسرور جلد 12 362 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جون 2014ء فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر نماز میں کسی وجہ سے رہ بھی گئی ہیں تو ایک کونے میں جا کر ادا کرنے کی کوشش کریں۔تا کہ نہ آپ کی وقت پر ادا نہ کی گئی نمازیں متاثر ہوں اور نہ لوگوں کو بیٹھنے میں دقت ہو کہ وہ آرام سے جلسے کی کارروائی بھی سن سکیں۔یا درکھیں عمل صالح وہ عمل ہے جو موقع اور محل کے حساب سے ہے۔ورنہ غلط موقع پر کیا گیا عمل غلط نتائج کی وجہ سے ایمان میں ٹھوکر کا باعث بھی بن سکتا ہے۔اگر وہ نماز پڑھنے والا شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کو سمجھ کر اپنی نماز کومختصر کر کے آپ کی مجلس میں بیٹھتا تو یہ عمل اس کا زیادہ صالح عمل ہوتا اور وہ ایمان ضائع کرنے سے بچ جاتا۔اس بات سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ صبر اور برداشت ایمان ضائع ہونے سے بھی بچاتی ہے۔ان دنوں میں آ کر آپ کو جائز تکلیف بھی کسی سے پہنچے۔صرف کہنی لگنے کا سوال نہیں۔بڑی تکلیف بھی ہو تو تب بھی صبر اور برداشت سے کام لیں اور اس نیک مقصد کے حاصل کرنے کی طرف توجہ دیں جس کے لئے آپ یہاں آئے ہیں۔جلسوں پر بعض دفعہ اس بے صبری کی وجہ سے بعض لوگ ایک دوسرے سے سختی بھی کرتے ہیں اور لڑائی تک نوبت آ جاتی ہے۔اور نتیجہ لڑنے والوں کے خلاف پھر جب پتا لگتا ہے تو تعزیری کارروائی بھی ہوتی ہے جو بعض دفعہ ان کو مزید ٹھوکر لگاتی ہے کیونکہ پھر انا غالب آ جاتی ہے۔ایمان بھی ضائع ہوتا ہے۔تو جیسا کہ میں نے کہا یہ جلسہ فیض کے بجائے اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والا ہو جاتا ہے۔نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔ایمان کے ضائع ہونے کا باعث بنتا ہے، لیکن اگر صبر، برداشت اور جلسے میں شمولیت کا حقیقی مقصد پیش نظر ہو تو نہ صرف اپنے ایمان میں ترقی ہوتی ہے بلکہ بہتوں کے ایمان میں ترقی اور ہدایت کا موجب بھی انسان بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیائے احمدیت میں اب ہر جگہ جلسے منعقد ہوتے ہیں۔بیسیوں ممالک میں جلسے منعقد ہوتے ہیں جو جماعتیں بڑھی ہیں۔حضرت مسیح موعود کے ماننے والے جو مختلف قوموں اور نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کی وجہ سے جودنیا میں جو ہدایت پھیل رہی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہمیں بھی جھکانے والا بناتی ہے۔اگر کوئی بد بخت ایمان ضائع کرنے والا ہوتا ہے تو سینکڑوں خوش قسمت ایمان لانے والے بھی ہوتے ہیں۔اس کی مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی تھیں اور آج بھی ہیں۔اس وقت میں ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ وہ لوگ ہدایت کا باعث بنے جو ہزاروں میل دور بیٹھے ہیں لیکن ایمان میں ترقی کر رہے ہیں۔ان میں سے اکثریت نے شاید خلیفہ وقت کو بھی نہ دیکھا ہو اور جنہوں نے دیکھا ہے انہیں بھی پچیس تیس سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔لیکن ہدایت کا باعث یہ لوگ کس طرح بن رہے