خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 357
خطبات مسرور جلد 12 357 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جون 2014 ء علاوہ اور کوئی ہتھیار نہیں۔بہر حال میں آپ لوگوں سے جو یہاں رہنے والے ہیں یہ کہہ رہا تھا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے یہ سامان پیدا فرمائے کہ جلسے منعقد کرتے ہیں۔ہر طرح کے اجتماعات کرتے ہیں۔ہر سطح پر اجلاسات منعقد کرتے ہیں۔پس اس بات پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوں اور شکر گزاری یہ ہے کہ جلسے کے پروگراموں سے بھر پور فائدہ اٹھا ئیں۔جلسہ کے دنوں میں بھی اور پھر بعد میں بھی جو نیک باتیں یہاں دیکھیں اور سنیں انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسے کا مقصد صبر کے ساتھ دین کو تلاش کرنا اور فقط دین کو چاہنا بتایا ہے۔(ماخوذ از شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحه 395) یعنی ہر شخص جو جلسہ میں شامل ہوتا ہے اس نیت سے شامل ہونے کے لئے آئے کہ تھوڑی بہت مشکلات تکلیفیں اگر برداشت بھی کرنی پڑیں تو کر لیں گے اور کوئی بے صبری کا کلمہ منہ سے نہیں نکالیں گے کہ ہم سے یہ سلوک ہوا اور وہ سلوک ہوا۔اول تو عموماً یہاں ڈیوٹی دینے والے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے فرائض ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جن میں کمی ہے انہیں میں دوبارہ یاد دہانی کروا دیتا ہوں کہ صبر سے اور برداشت سے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنے فرائض ادا کریں اور ساتھ ہی شاملین جلسہ سے بھی میں کہوں گا کہ یہاں جلسہ پر آنا صرف اس مقصد کے لئے ہونا چاہئے کہ اس نے یا آپ نے دین سیکھنا ہے اور اس ماحول میں اپنی روحانی ترقی کے سامان کرنے ہیں۔اور پھر اس روحانی ترقی میں اپنی نسلوں کو بھی شامل کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس درد کو ہمیشہ محسوس کرتے رہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : میں بار بار کہتا ہوں کہ آنکھوں کو پاک کرو اور ان کو روحانیت کے طور سے ایسا ہی روشن کرو جیسا کہ وہ ظاہری طور پر روشن ہیں۔فرمایا: ”انسان اس وقت سو جا کھا کہلا سکتا ہے جب کہ باطنی رؤیت یعنی نیک و بد کی شناخت کا اس کو حصہ ملے اور پھر نیکی کی طرف جھک جائے۔‘ فرمایا: ”نجات انہیں کو ہے کہ جو دنیا کے جذبات سے بیزار اور بری اور صاف دل تھے۔فرمایا کہ ”جب تک دل فروشنی کا سجدہ نہ کرے صرف ظاہری سجدوں پر امید رکھنا طمع خام ہے۔جیسا کہ قربانیوں کا خون اور گوشت خدا تک نہیں پہنچتا صرف تقویٰ پہنچتی ہے ایسا ہی جسمانی رکوع وسجود بھی بیچ ہے جب تک دل کا رکوع و سجود و قیام نہ ہو۔فرمایا کہ دل کا قیام یہ ہے کہ اس کے حکموں پر قائم ہو اور رکوع یہ کہ اس کی طرف جھکے اور سجود یہ کہ اس کے لئے