خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 352 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 352

خطبات مسرور جلد 12 352 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جون 2014ء کے اور کیا کام یہ لوگ کر رہے ہیں۔پس یہ آج صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ صبر اور برداشت کے ایسے نمونے قائم کر رہے ہیں جو قابل رشک ہیں۔تکلیفوں کو برداشت کرنے کے ایسے نمونے دکھا رہے ہیں جو کہ دور اول کے مسلمانوں میں نظر آتے ہیں۔اور وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: 4) کا مضمون اس زمانے کے لئے واضح ہو جاتا ہے۔پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اونٹ سفر کے لئے پانی جمع رکھتا ہے۔اس بات سے غافل نہیں ہوتا کہ میں نے ضرورت کے وقت پانی کی کمی کو کس طرح پورا کرنا ہے۔پانی جمع رکھتا ہے تا کہ ضرورت کے وقت وہ پانی کام آئے۔آپ نے فرمایا کہ مومن کو بھی ہر وقت سفر کے لئے تیار اور محتاط رہنا چاہئے۔اور یہ تیاری اور احتیاط کس طرح ہوگی؟ یہ زادِ راہ کے ساتھ ہے۔زادِ راہ رکھنے سے ہوگی۔اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا مومن بھی اس دنیا میں مسافر کی طرح ہے اور بہترین زادِراہ مومن کے لئے تقویٰ ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 134) اعمال کو اور اپنی عبادتوں کو وہ رنگ ہمیں دینے کی ضرورت ہے جو ہمارے لئے بہترین زادِ راہ ثابت ہوں۔اس زمانے کے امام کو مان کر روحانی پانی ہمیں میسر آ گیا۔اس کو سنبھالنا اور اس سے فائدہ اٹھانا اب ہمارا کام ہے۔پس اس حقیقت کو بھی ہر احمدی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ جو کامل اطاعت کے ساتھ امام وقت کی باتوں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں اور یہی باتیں ہیں جو پھر خلافت کے انعام سے بھی فیض پانے والا بناتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں خلافت کے فیض سے فیض پانے والے وہی بتائے ہیں جو عمل صالح کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں، توحید کو قائم رکھنے والے ہیں۔اور یہی وہ لوگ ہیں جو تقویٰ پر چلنے والے کہلاتے ہیں۔پس ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ خلافت میں کبھی دنیاوی مقاصد ہو سکتے ہیں یا خلافت کا مقصد بھی دنیاوی مقاصد کی طرح ہے یا دنیا داروں کی طرح ہے۔دنیاوی مقاصد حاصل کرنے والوں کا روحانیت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔وہ تو تمام دنیاوی ساز وسامان کے ساتھ بھی بسا اوقات کامیاب نہیں ہوتے۔ان کے دنیاوی مقاصد پورے نہیں ہوتے۔کامیابی تو وہی ہے ناں جو آخری فتح مل جائے۔وہ ان کو حاصل نہیں ہوتی۔لیکن خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والوں اور تقویٰ پر چلنے والوں کا مقصد دنیا وی ہار جیت نہیں ہے بلکہ کامل اطاعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا اور تقویٰ میں بڑھنا ہوتا ہے۔ہمارا مقصد خدا تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم کرنا ہے۔کوئی ذاتی نفع رسانی نہیں ہے۔توحید