خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 350 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 350

خطبات مسرور جلد 12 350 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جون 2014ء ہیں ان کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دیں۔حضرت مولوی شیر علی صاحب کا ایک واقعہ ہے جو قرآن کریم کا ترجمہ انگلش میں کرنے کے لئے لندن آ رہے تھے تو بمبئی سے غالباً ان کی روانگی تھی۔وہاں پہنچے تو جمعہ کا دن آ گیا۔جماعت نے درخواست کی کہ آج جمعہ ہے آپ جمعہ پڑھا ئیں۔قادیان سے آئے ہیں بزرگ ہیں صحابی ہیں ہم بھی آپ سے کوئی فیض پالیں۔نہ جماعت والے آپ کو جانتے تھے، نہ کبھی دیکھا تھا، نہ آپ کسی کو جانتے تھے۔آپ نے خطبہ دیا کہ دیکھو تم مجھے جانتے نہیں ہو۔بعضوں نے مجھے دیکھا بھی نہیں ہوا۔تم نے مجھے جمعہ کے لئے کھڑا کر دیا۔آج اپنا امام بنا دیا۔اسلامی تعلیم یہ ہے کہ اگر امام نماز پڑھاتے ہوئے کوئی غلطی کرے تو تم نے سبحان اللہ کہ دینا ہے۔اگر امام اس سبحان اللہ پر اپنی اصلاح کر لیتا ہے تو ٹھیک ہے۔اگر وہ اصلاح نہیں کرتا، اسی طرح اپنے عمل جاری رکھتا ہے تو تمہارا کام کامل اطاعت کرتے ہوئے اس کے ساتھ اٹھنا اور بیٹھنا ہے۔تمہارا کوئی حق نہیں بنتا ہے کہ تم اپنے طور پر نماز پڑھنی شروع کر دو۔اسی طرح تم نے بیٹھنا ہے اسی طرح اٹھنا ہے اسی طرح جھکنا ہے۔پس آگے انہوں نے فرمایا کہ جب عارضی امامت میں اطاعت کا یہ معیار ہے اس کی اتنی پابندی ہے تو خلیفہ وقت کی بیعت میں آکر جو تم عہد کرتے ہو اور خوشی سے عہد کر کے خود شامل ہوتے ہو، اس میں کس قدر اطاعت ضروری ہے۔جبکہ تم نے خود سوچ سمجھ کر یہ بیعت کی ہے۔پس یادرکھیں عہد بیعت پورا کرنے کے لئے اطاعت انتہائی اہم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے۔مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے بڑوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے“۔بڑے بڑے توحید کا دعویٰ کرنے والے جو ہیں وہ بھی اطاعت سے بعض دفعہ باہر نکل جاتے ہیں بت بنا بیٹھتے ہیں۔فرمایا : ” کوئی قوم قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کرے۔پھر فرماتے ہیں کہ اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔پھر جس کام کو چاہتے ہیں وہ