خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 347 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 347

خطبات مسرور جلد 12 347 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جون 2014ء عمل سے اس کا ثبوت دینا ہو گا۔اپنے نمونے نئے آنے والوں کے لئے بھی اور اپنی اولادوں کے لئے بھی قائم کرنے ہوں گے۔نوجوانوں کو بھی اپنے نمونے بڑوں کو دکھانے کی ضرورت ہے، یعنی بڑے اپنے نمونے قائم کریں جو ان کے بچے اور نو جوان دیکھیں اور سیکھیں اور سب سے بڑھ کر یہ معیار اوپر سے لے کر نیچے تک ہر عہدیدار کو دکھانا ہوگا ، قائم کرنا ہوگا۔یہاں بعض ذہنوں میں کبھی کبھی یہ سوال اٹھتا ہے۔اگر وہ باتیں صحیح ہیں۔میں سوال کی بات کر رہا ہوں جو مجھ تک پہنچے ہیں اگر یہ باتیں صحیح ہیں کہ یہ سوال اٹھانے والے اٹھاتے ہیں کہ کامل اطاعت شاید نقصان دہ ہے۔اور ایسے لوگوں کی یہ سوچ شاید اس لئے ہے جو کامل اطاعت کو نقصان دہ سمجھتے ہیں کہ یہاں جرمنی میں ہٹلر نے اپنا ہرحکم منوایا اور ڈکٹیٹر بن کر رہا اس لئے دوسری جنگ عظیم میں یہ تصور ہے، یہ تاثر ہے کہ اس وجہ سے ہماری یعنی جرمنی کی شکست بھی ہوئی۔ان کو نقصان اٹھانا پڑی ،سبکی اٹھانی پڑی۔میں یہاں ہر احمدی اور ہر نئے آنے والے اور ہر نو جوان پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امامت اور خلافت اور ڈکٹیٹر شپ میں بڑا فرق ہے۔خلافت زمانے کے امام کو ماننے کے بعد قائم ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق قائم ہوئی ہے اور ہر ماننے والا یہ عہد کرتا ہے کہ ہم خلافت کے نظام کو جاری رکھیں گے۔دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔جب اپنی خوشی سے دین کو مان لیا تو پھر دین کے قیام کے لئے اس عہد کو نبھانا بھی ضروری ہے جو خلافت کے قیام کے لئے ایک احمدی کرتا ہے اور جو قومی پجہتی کے لئے وحدت کے لئے ضروری ہے۔خلافت کی اطاعت کے عہد کو اس لئے نبھانا ہے کہ ایک امام کی سرکردگی میں خدا تعالیٰ کی حکومت کو دنیا کے دلوں میں بٹھانے کی مشترکہ کوشش کرنی ہے۔دوسرے مسلمان جو ہیں وہ بغیر امام کے ہیں اور جماعت احمدیہ کی کوششیں جو ہیں وہ خلافت سے وابستہ ہو کر ہو رہی ہیں۔یہ سب کوششیں جو خلافت سے وابستہ ہو کر ہو رہی ہیں ان کی کامیابی کے نتائج بتا رہے ہیں کہ اسلام کی حقیقی تعلیم کے ساتھ (حقیقی تعلیم دوسرے مسلمانوں کے پاس بھی ہے لیکن اسلام کی حقیقی تعلیم کے ساتھ ) ان نتائج کا حصول، کامیابی کا حصول خلافت کی لڑی میں پروئے جانے کی وجہ سے ہے۔پھر خلافت کا مقصد حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھر پور توجہ دینا ہے۔ان حقوق کو منوانا اور قائم کرنا اور مشترکہ کوشش سے ان کی ادائیگی کی کوشش کرنا ہے۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے لئے افراد جماعت میں یہ روح پیدا کرنا ہے۔ان کو توجہ دلانا ہے کہ دین بہر حال دنیا سے مقدم رہنا چاہئے اور اسی میں تمہاری بقا ہے۔اس میں تمہاری نسلوں کی بقا ہے۔یہ ایک روح پھونکنا بھی خلافت کا کام ہے۔تو حید کے