خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 343 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 343

خطبات مسرور جلد 12 343 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جون 2014ء وضاحت فرمائی ہے۔بظاہر یہ عجیب سی بات لگتی ہے کہ اونٹوں اور نبوت اور امامت کی اطاعت کا کیا جوڑ ہے لیکن جس طرح کھول کر آپ نے تشریح فرمائی ہے اس سے اس جوڑ کا حیرت انگیز ادراک ہمیں بھی حاصل ہوتا ہے۔آپ کی تفسیر پہلے پیش کرتا ہوں۔فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں جو یہ آیت آئی ہے اَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلقت ( الغاشية: 18 ) یہ آیت نبوت اور امامت کے مسئلہ کو حل کرنے کے واسطے بڑی معاون ہے۔اونٹ کے عربی زبان میں ہزار کے قریب نام ہیں اور پھر ان ناموں میں سے اہل کے لفظ کو جو لیا گیا ہے اس میں کیا ستر ہے؟ کیوں الى الجبل بھی تو ہو سکتا ہے؟ عمل بھی تو اونٹ کو کہتے ہیں۔فرمایا کہ اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ حمل ایک اونٹ کو کہتے ہیں اور اہل اسم جمع ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ کو چونکہ تمدنی اور اجماعی حالت کا دکھانا مقصود تھا اور جمل میں جو ایک اونٹ پر بولا جاتا ہے یہ فائدہ حاصل نہ ہوتا تھا اسی لئے اہل کے لفظ کو پسند فرمایا۔اونٹوں میں ایک دوسرے کی پیروی اور اطاعت کی قوت رکھی ہے۔دیکھو اونٹوں کی ایک لمبی قطار ہوتی ہے اور وہ کس طرح پر اس اونٹ کے پیچھے ایک خاص انداز اور رفتار سے چلتے ہیں اور وہ اونٹ جو سب سے پہلے بطور امام اور پیشرو کے ہوتا ہے وہ ہوتا ہے جو بڑا تجربہ کار اور راستہ سے واقف ہو۔پھر سب اونٹ ایک دوسرے کے پیچھے برابر رفتار سے چلتے ہیں اور ان میں سے کسی کے دل میں برابر چلنے کی ہوس پیدا نہیں ہوتی جو دوسرے جانوروں میں ہے۔جیسے گھوڑے وغیرہ میں۔گویا اونٹ کی سرشت میں اتباع امام کا مسئلہ ایک مانا ہوا مسئلہ ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آفلا يَنْظُرُونَ إِلَى الْابیل کہ کر اس مجموعی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے جبکہ اونٹ ایک قطار میں جار ہے ہوں۔اسی طرح پر ضروری ہے کہ تمدنی اور اتحادی حالت کو قائم رکھنے کے واسطے ایک امام ہوں۔یہ پہلی بات ہمیں یاد رکھنی چاہئے۔اس سے مطابقت کے لئے تمدنی اور اتحادی حالت قائم رکھنے کے لئے ایک امام ہو۔” پھر یہ بھی یادر ہے کہ یہ قطار سفر کے وقت ہوتی ہے۔پس دنیا کے سفر کو قطع کرنے کے واسطے جب تک ایک امام نہ ہو انسان بھٹک بھٹک کر ہلاک ہو جاوے۔دنیا کا بھی جو زندگی کا سفر ہے اس میں ایک امام ہونا ضروری ہے جو صحیح رہنمائی کرتا رہے۔” پھر اونٹ زیادہ بارکش اور زیادہ چلنے والا ہے۔اس سے صبر و برداشت کا سبق ملتا ہے۔پھر اونٹ کا خاصہ ہے کہ وہ لمبے سفروں میں کئی کئی دنوں کا پانی جمع رکھتا ہے۔غافل نہیں ہوتا۔پس مومن کو بھی ہر وقت اپنے سفر کے لئے تیار اور محتاط رہنا چاہئے اور بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔فرمایا کہ انظر کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دیکھنا بچوں کی طرح دیکھنا نہیں ہے بلکہ اس