خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 342
خطبات مسرور جلد 12 342 23 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جون 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 06 جون 2014 ء بمطابق 06 احسان 1393 ہجری شمسی بمقام فرانکفرٹ۔جرمنی تشہد وتعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ وَإِلَى (الغاشية: 21-18) الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتُ وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں زمانے کے امام مسیح موعود اور مہدی موعود کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی۔جہاں بھی اور جس معاملے میں بھی ہمیں رہنمائی کی ضرورت ہو، کسی بات کو سمجھنے کی ضرورت ہو۔قرآن کریم میں بیان فرمودہ حکمت کے موتیوں کو تلاش کرنے کی ضرورت ہو یا ان کی تلاش ہو تو ہمیں اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس فرستادے کی کتب اور ارشادات مل جاتے ہیں جو ہمارے مسائل حل کرتے ہیں۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں جمعہ پر اکثر ہم دوسری رکعت میں پڑھتے ہیں۔سورۃ غاشیة کی یہ آیات پڑھی جاتی ہیں۔ان میں پہلی آیت جو میں نے پڑھی ہے یعنی أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ۔کیا وہ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کئے گئے؟ اس کی جو تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے وہ اپنی گہرائی اور خوبصورتی اور علم و عرفان اور پھر عملی حالت پر منطبق کرنے کا ایک عجیب اور جدا انقشہ سینچتی ہے۔آپ علیہ السلام نے اس آیت سے نبوت اور امامت کی اطاعت کے مسئلہ کوحل فرمایا ہے اور نبوت اور امامت کے ساتھ جڑنے والوں کے لئے جو بنیادی چیز ہے یعنی اطاعت اور کامل اطاعت اس کو آپ نے اہل یعنی اونٹ کے لفظ سے یا اونٹوں کے لفظ سے جوڑ کر -