خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 339
خطبات مسرور جلد 12 339 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مئی 2014ء ہے تو ملک کے وزیر اعظم خود اظہار افسوس کرنے اور متاثرین سے ملنے جاتے ہیں مگر احمد یوں کے حق میں کوئی کھڑا ہونے والا نہیں۔(احمدیوں کے حق میں خدا کھڑا ہوتا ہے اور آئندہ بھی ہوتارہے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔) تجزیہ نگار نے شہید کے ایک ساتھی ڈاکٹر ھیتا نوسنہا کا بھی انٹرویو شائع کیا ہے۔ڈاکٹر سنہا نے شہید مرحوم کے متعلق کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں ان سے زیادہ دیانتدار اور خوش اخلاق شخص نہیں دیکھا۔آپ کے جسم میں ایک بھی شر پسند ذرہ نہ تھا۔آپ بہت زیادہ خدمت خلق کرنے والے شخص تھے اور گو کہ آپ جانتے تھے کہ آپ کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آسکتا ہے مگر اس کے باوجود خدمت خلق کے لئے پاکستان گئے۔میں بس اس قدر چاہتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ کس طرح ایک انتہائی با اخلاق انسان جو انسانیت کی خدمت کرنے کے لئے گیا ہوا تھا اس کو انتہائی بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا گیا۔پھر آخر میں پولیس انسپکٹر کی طرف سے صرف اس قدر بات درج کی ہے کہ پولیس والوں نے کہا ہم کوئی روشنی نہیں ڈال سکتے اور ایک پولیس اہلکار کا یہ بیان ہے کہ ہم اکثر ایسے پمفلٹ دیکھتے رہتے ہیں جن میں ربوہ کے اس ہسپتال اور یہاں علاج کروانے کی مخالفت کی جاتی ہے اور غالباً یہ قتل بھی اسی سے متعلق ہے۔اسی طرح الجزیرۃ کے ایک تجزیہ نگار نے بھی یہی لکھا ہے کہ اکثر احمدیوں کے خلاف ظلم اور تشدد کی خبریں ملتی رہتی ہیں اور مجرم یہ ظلم اس تسلی کے ساتھ کرتے ہیں کہ حکومت انہیں سزا دینے کے لئے کچھ نہیں کرے گی۔واشنگٹن پوسٹ میں بھی شہادت کی خبر شائع ہوئی اور اسی طرح لکھا کہ جرم اس لئے ہور ہے ہیں کہ پتا ہے کچھ نہیں ہونا۔پھر لن کا سٹرائیگل گزٹ (Lancaster Eagle Gazette) جو کہ اس علاقے کا اخبار ہے جہاں ڈاکٹر صاحب خدمت انجام دے رہے تھے۔اس اخبار نے ایک تفصیلی مضمون مرحوم کی شہادت پر شائع کیا جس میں مرحوم کے ساتھ کام کرنے والوں کے تاثرات بھی درج کئے گئے۔کیلی موریسن جو وہاں کارڈیو ویسکولر بزنس ڈیویلپمنٹ کے مینجر ہیں انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک وقت ہے اور یہاں ہسپتال میں ہر ایک کی آنکھ آنسوؤں سے تر ہے۔پھر تجزیہ نگار نے اس امر کا بھی اظہار کیا کہ مرحوم گورڈن بی سنائڈر (Gordon۔B۔Snider) کارڈیو ویسکیولر انسٹی ٹیوٹ کے بانی ڈاکٹروں میں سے تھے اور انہیں 2013ء میں عظیم الشان خدمت خلق یعنی لیجنڈری فلن تھراپسٹ کا اعزاز بھی ملا تھا۔نامہ نگار نے لکھا ہے کہ مرحوم کی وفات سے نہ صرف جماعت احمدیہ کے افراد بلکہ کمیونٹی کا ہر فر دمتاثر ہوا