خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 335 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 335

خطبات مسرور جلد 12 335 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مئی 2014ء اپنی خدمت کر رہے ہوتے تھے۔مالی قربانی میں صف اول میں رہے۔عبد السلام ملک صاحب بھی ڈاکٹر ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مجھے بھی کام کرنے کا موقع ملا۔کئی دفعہ ایسا ہو جاتا کہ آپ کی کامیابی کو دیکھ کر بعض دوسرے لوگ حسد کی بنا پر مشکلات کھڑی کرتے تھے۔آپ ہمیشہ خندہ پیشانی سے ان مشکلات کا سامنا کرتے۔کبھی آپ کو میں نے غصے میں نہیں دیکھا۔ہمیشہ ہی پرسکون اور مسکراتے ہوئے پایا۔اور یہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں کیا ضرورت ہے پریشان ہونے کی۔خلیفہ وقت کی دعائیں ہمارے ساتھ ہیں کوئی فکر کی بات نہیں۔جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں یہاں آئے چند دن رہے اور بڑے خوش تھے۔جاکے دوستوں کو بتایا کہ میں مل کے آیا ہوں۔میٹنگ کی باتیں کیں۔یہ ایک لکھنے والے لکھتے ہیں کہ آپ کی ای میل پر یہ بھی لکھا ہوتا تھا کہ اپنے اندروہ تبدیلی پیدا کرو جو تم دوسروں میں دیکھنا چاہتے ہو اور خود اس کی زندہ مثال تھے۔ڈاکٹر نوری صاحب جو ربوہ میں طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں ہمارے ڈاکٹر ہیں کہتے ہیں ڈاکٹر مہدی علی صاحب مریضوں میں بے حد مقبول تھے۔غریب اور نادار مریض آپ کے پاس بہت خوشی اور امید سے علاج کے لئے آتے تھے۔ذاتی دلچسپی اور توجہ سے ہر مریض کو دیکھتے۔طبیعت میں انتہائی سادگی تھی۔لباس اتنا سادہ ہوتا کہ ان کو مریضوں کے درمیان دیکھ کر پہچانا مشکل ہوتا تھا۔طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں خدمت کے لئے اپنے آپ کو رضا کارانہ طور پر اور بغیر کسی تکلف کے پیش کیا۔ارادے کے بہت پکے تھے۔بے لوث خدمت خلق کے لئے ان کا اس ہسپتال میں آتے رہنا اپنے پیشہ کے ساتھ پر خلوص وابستگی کا ثبوت ہے۔انتہائی عاجز انسان تھے۔حافظہ کمال کا تھا۔قرآن کریم اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ساتھ شاعری اور کیلیگرافی میں بھی دلچسپی تھی۔ہمارے ہاں مبارک صدیقی صاحب جو ہیں وہ بھی ان کے کلاس فیلو تھے۔کہتے ہیں کہ مہدی علی بچپن سے ہی مومنانہ صفات کے حامل خوبصورت اور ذہین انسان تھے۔جماعت احمدیہ کے جان شار خادم اور خلافت سے از حد پیار کرنے والے تھے۔علم اور مالی فراخی میں ہمیشہ ہم سے بہت آگے ہونے کے با وجود انتہائی حلیم اور عاجز قسم کے انسان تھے۔کہتے ہیں کہ سکول کے زمانے میں بعض اوقات میرے پاس کورس کی ساری کتا بیں نہیں ہوتی تھیں تو یہ مجھے کہتے کہ آدھا دن کتاب میں نے پڑھ لی ہے اب آدھادن کتاب تم پڑھ لو حتی کہ بعض اوقات عین اس وقت جب اگلے روز امتحان ہوتا تھا آپ جلدی جلدی کتاب پڑھ کر مجھے پکڑا جاتے کہ اب باقی دن تم پڑھ لو۔اس کے باوجود بھی آپ زیادہ تر اول پوزیشن ہی حاصل