خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 330 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 330

خطبات مسرور جلد 12 330 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مئی 2014ء الْكَافِرِينَ (آل عمران: 148) کہ اے ہمارے رب! ہمارے قصور یعنی کو تا ہیاں اور ہمارے اعمال میں ہماری زیادتیاں ہمیں معاف کر اور ہمارے قدموں کو مضبوط کر اور کا فرلوگوں کے خلاف ہماری مدد کر۔اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک الہامی دعا ہے اسے پڑھنے کی بہت ضرورت ہے۔دشمن اب اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے ہمیں بھی دعائیں کرنی چاہئیں۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں اپنی جماعت کے لئے اور پھر قادیان کے لئے دعا کر رہا تھا تو یہ الہام ہوا کہ زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے ہیں۔پھر فَسَحِقُهُمْ تَسْحِیقًا۔یعنی پس پیس ڈال ان کو ، خوب ہیں ڈالنا۔فرمایا کہ میرے دل میں آیا کہ اس پیس ڈالنے کو میری طرف کیوں منسوب کیا گیا ہے۔اتنے میں میری نظر اس دعا پر پڑی جو ایک سال ہوا بیت الدعا پر لکھی ہوئی ہے اور وہ دعا یہ ہے۔يَا رَبِّ فَاسْمَعُ دُعَائِي وَ مَزْقُ اعْدَانَكَ وَ اعْدَائِي وَ الْجِزُ وَعَدَكَ وَانْصُرُ عَبْدَكَ وَ آرِنَا أَيَّامَكَ وَ شَهْرُ لَنَا حُسَامَكَ وَلَا تَذَرُ مِنَ الْكَافِرِينَ شَرِیرا۔کہ اے میرے رب! تو میری دعا سن اور اپنے دشمن اور میرے دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور اپنا وعدہ پورا فرما اور اپنے بندے کی مدد فرما اور ہمیں اپنے دن دکھا اور ہمارے لئے اپنی تلوار سونت لے اور انکار کرنے والوں میں سے کسی شریر کو باقی نہ رکھ۔(ماخوذ از تذکرہ صفحہ 426 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ) پس یہ دعائیں ہیں ان کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔اب اس کے بعد میں آج اپنے ایک انتہائی پیارے ، مخلص، باوفا، نافع الناس اور بہت سی خوبیوں کے مالک جن کا نام ڈاکٹر مہدی علی قمر تھا ابن مکرم چوہدری فرزند علی صاحب کا ذکر خیر کروں گا جنہیں 26 رمئی کو ربوہ میں شہید کر دیا گیا۔اور واقعہ یہ ہے کہ صبح تقریباً پانچ بجے دونامعلوم موٹر سائیکل سوار آئے جب یہ دار الفضل کے قریب بہشتی مقبرہ کی طرف جارہے تھے وہاں ان کو فائرنگ کر کے انہوں نے شہید کیا۔یہ کہتے ہیں کہ مکرم ڈاکٹر مہدی علی صاحب جو ہارٹ سپیشلسٹ تھے اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ دو یوم قبل امریکہ سے وقف عارضی کے لئے طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں تشریف لائے تھے۔ڈاکٹر صاحب کی رہائش بھی وہیں تھی اور 26 مئی 2014ء کی صبح بعد نماز فجر اہلیہ، ایک بیٹے اور عزیزہ کے ہمراہ بہشتی مقبرہ دعا کے لئے جارہے تھے۔کچی سڑک پر بہشتی مقبرے کے گیٹ کے سامنے پہنچے تھے کہ ایک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد آئے جنہوں نے آ کر ڈاکٹر صاحب پر فائرنگ کر دی اور فائر کر کے مین روڈ پر سرگودھا کی طرف فرار ہو گئے اور 11 گولیاں فائر کیں جو ان کو لگیں جس سے ڈاکٹر صاحب کی موقع پر ہی شہادت ہو گئی۔