خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 324
خطبات مسرور جلد 12 324 22 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مئی 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 30 رمئی 2014 ء بمطابق 30 ہجرت 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ایک احسان اور بہت بڑا احسان جس نے جماعت احمدیہ کو ایک اکائی میں پرویا ہوا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد جاری نظام خلافت ہے۔جماعت احمدیہ کی تاریخ کے گزشتہ 106 سال اس بات کے گواہ ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد جیسا کہ آپ علیہ السلام نے رسالہ الوصیۃ میں بیان فرمایا تھا افراد جماعت نے کامل اطاعت کے ساتھ نظام خلافت کو قبول کیا۔دنیا میں بسنے والا ہر احمدی چاہے وہ کسی قوم یا ملک سے تعلق رکھتا ہے اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کے ساتھ جو خلافت علی منہاج النبوۃ کا سلسلہ شروع ہونا تھا اس سے مجڑ کر رہنا اس کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔میں ان لوگ کی بات نہیں کر رہا جو شروع میں علیحدہ ہو گئے اور ان کی اب حیثیت بھی کوئی نہیں۔جو جماعت احمدیہ کی اکثریت ہے، وہ جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام ومرتبہ کو بجھتی ہے وہ بہر حال اس بات کا ادراک رکھتی ہے کہ خلافت سے جڑ کر رہنا ہی اصل چیز ہے۔اسی سے جماعت کی اکائی ہے۔اسی سے جماعت کی ترقی ہے۔اسی سے دشمنان احمدیت اور اسلام کے حملوں کے جواب کی طاقت ہم میں پیدا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اب اسلام کی اس نشاة ثانیہ میں خلافت کے نظام سے وابستہ ہے۔لیکن یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ صرف زبانی ایمان کا اعلان اللہ تعالیٰ کے فضل حاصل کرنے والا نہیں بنا دیتا بلکہ آیت استخلاف میں جہاں اللہ تعالیٰ نے مومنوں میں خلافت کا وعدہ فرمایا ہے، ان کے خوف کو امن