خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 322 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 322

خطبات مسرور جلد 12 322 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مئی 2014ء میں جو باقی نامزدملزمان تھے ، ان کی عبوری ضمانتیں کروالی گئی تھیں اور خلیل صاحب کی ضمانت کے حوالے سے کارروائی ہو رہی تھی کہ 16 مئی 2014ء بروز جمعہ سوا بارہ بجے دوپہر سلیم نامی ایک نوجوان آیا، جو قریبی گاؤں کا رہنے والا تھا کہ میں کھانا دینے آیا ہوں۔اس بہانے سے اندر داخل ہوا اور حوالات کے قریب آ کر پوچھا کہ خلیل صاحب کون ہیں؟ اور نشاندہی ہونے پر پستول نکال کر خلیل صاحب کے چہرے پر فائر کر دیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے اور قاتل نے دوسرے احمدی اسیران پر بھی فائر کی کوشش کی لیکن اس وقت پستول چلانہیں ، گولی پھنس گئی۔پولیس نے مجرم کو گرفتار کر لیا خلیل صاحب کو حوالات سے باہر نکالا لیکن اس وقت تک جام شہادت نوش فرما چکے تھے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ گوا سے گرفتار تو کر لیا لیکن حال یہی ہے کہ یہ سب کچھ وہاں کے سرکاری افسروں اور پولیس کی آنکھوں تلے ہورہا ہے اور یہ نوجوان جس کو مولویوں نے احمدیت کی دشمنی میں بالکل ہی اندھا کیا ہوا تھا اس نے یہ ایک نعرہ لگایا کہ ” مجھے جنت مل گئی۔یہ تو آج کل کے مولویوں کا حال ہے جو یہ تعلیم دے رہے ہیں۔اللہ اور اس کا رسول یہ کہتے ہیں کہ کلمہ پڑھنے والے کو مارنے والے قتل کرنے والے کی سزا جہنم ہے اور یہ ان کو جنتوں کی خوشخبریاں دے رہے ہیں۔شہید مرحوم کے خاندان کا تعلق بھوئیوال ضلع شیخو پورہ سے تھا۔ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے والد فتح محمد صاحب کے ذریعہ سے ہوا۔دو بھائیوں سردار محمد صاحب اور چوہدری محمد عمر دین صاحب کے ہمراہ 1918ء میں خلافت ثانیہ میں انہوں نے بیعت کی۔شہید مرحوم پیدائشی احمدی تھے۔بوقت شہادت ان کی عمر 61 سال تھی، میٹرک تک تعلیم تھی۔واپڈا میں ملازم ہو گئے تھے۔شہادت سے ڈیڑھ ماہ قبل ہی محکمہ سے ریٹائر ڈ ہوئے تھے۔مکرم خلیل احمد صاحب شہید مرحوم بفضل خدا تجد گزار، پنجوقته نمازوں کے پابند، تلاوت کے باقاعدہ کرنے والے، خلافت کے ساتھ محبت کا ، اخلاص کا گہرا تعلق رکھنے والے، خطبہ جمعہ اور باقی پروگرام بڑی باقاعدگی سے سنتے تھے۔بچوں کو اس کی تلقین کرتے تھے۔واقفین زندگی کے ساتھ بڑی محبت کا تعلق تھا۔عزت و احترام ان کا کرتے تھے۔مہمان نوازی آپ کا وصف تھا۔مرکزی نمائندوں کی مہمان نوازی میں فخر محسوس کرتے۔بڑے امانتدار اور مخلص احمدی تھے۔خدمت خلق کے جذبے سے سرشار تھے۔کمزور احباب اور غرباء کا ہر طرح سے خیال رکھنے کی کوشش کرتے۔جماعتی خدمات کے طور پر ان کو سیکرٹری مال، سیکرٹری دعوت الی اللہ اور زعیم انصار اللہ کی خدمت کی توفیق ملی۔ان کی اہلیہ اور دو بیٹیاں ہیں اور دو بیٹے ہیں۔ایک جرمنی میں ہیں لئیق احمد صاحب اور ایک