خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 319
خطبات مسرور جلد 12 319 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مئی 2014ء ہونے کی روح کو سمجھنے والوں کا یہ مقام تھا۔یہ تو ان کے دل کی حالت تھی لیکن اللہ تعالیٰ ایسے غازیوں کے متعلق بھی فرماتا ہے کہ ان کو بھی جنت کی بشارتیں ہیں۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شہادت کے لئے یہ جذبے تھے۔پھر قربانی کی روح کو سمجھنے کی اس زمانے میں یہ مثال ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں جب بادشاہ نے حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف شہید سے بار بار یہ اصرار کے ساتھ کہا کہ اگر حضرت مسیح موعود کا انکار کر دو، جس کو تو نے مانا ہے اس کا انکار کر دو، تو میں اس کے نتیجہ میں تمہاری جان بخشی کر دوں گا۔یہ لالچ دی تو آپ نے ہر دفعہ یہی فرمایا کہ آج اگر مجھے خدا تعالیٰ وہ موت دے رہا ہے جو اس کے انعامات کا وارث بنانے والی ہے تو میں دنیا کی خاطر اس کا انکار کیوں کر دوں۔عجیب جاہلوں والا سوال تم مجھ سے کر رہے ہو یا سودا مجھ سے کر رہے ہو۔پس یہی مومن کی شان ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں یہ فرمایا ہے کہ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللهُ يُحِبُّ الصُّبِرِينَ (آل عمران: 147) پس وہ ہرگز کمزور نہیں پڑے اس مصیبت کی وجہ سے جو اللہ کے راستے میں انہیں پہنچی۔اور انہوں نے ضعف نہیں دکھایا اور دشمن کے سامنے جھکے نہیں اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔آج بھی ہمارے مخالفین کو یہی تکلیف ہے کہ یہ کیوں کمزوری نہیں دکھاتے۔کیوں ہمارے ظلموں پر ہمارے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکتے لیکن ان کو نہیں پتا کہ ایک حقیقی احمدی ہر وقت خدا پر نظر رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہر وقت کوشش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا حاصل کرنے کے لئے یہاں ایک دعا بھی سکھائی ہے کہ اپنے ثبات قدم کے لئے ہمیشہ دعا مانگتے رہو۔کیونکہ ایمان کی مضبوطی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی آتی ہے۔یہ دنیا تمہارے ایمانوں کو کمزور کرنے پر اپنا زور لگا رہی ہے۔اس کے اثر میں نہ آ جانا اور دعا یہ سکھائی جو آیات میں میں نے پڑھی ہے کہ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ۔کہ اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور اپنے معاملے میں ہماری زیادتی سے ہمیں بچا کے رکھ اور ہمیں ثبات قدم عطا فرما۔اور ہمیں کا فرقوم کے خلاف نصرت عطا فرما۔یا یہ کہ لیں کہ ہمارے اعمال میں جو ہم نے زیادتی کی ہے، بعض غلط باتیں ہو گئیں ہم سے ہمیں بخش دے، ہمارے گناہوں کو معاف کر دے۔پس جہاں اللہ تعالیٰ نے ہر معاملے میں خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے کے لئے دعا سکھائی ہے وہاں یہ بھی بتا دیا کہ کامیابیاں دعاؤں سے ملتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کے آگے