خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 315
خطبات مسرور جلد 12 315 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مئی 2014ء وارث ہو گے۔قربانیوں کی جو مثالیں تم قائم کر رہے ہو وہ بھی رائیگاں نہیں جائیں گی اور آخری فتح تمہاری ہے۔اس فتح کے حصول کا سب سے زیادہ تیر بہ حدف نسخہ جو ہے وہ دعائیں ہیں۔جتنا زیادہ دعاؤں میں ڈو بو گے اتنی جلدی یہ مشکلات دور ہوں گی۔دشمنوں کے حملوں سے بچنے کے لئے جتنے زیادہ یار نہاں میں نہاں ہو گے اتنی زیادہ تیزی سے وہ ظاہر ہو کر خارق عادت نشان دکھائے گا انشاء اللہ۔پس ہماری سوچ اور دنیا داروں کی سوچ میں بہت فرق ہے۔ہم نے زمانے کے امام کی بیعت کی ہے جس سے خدا تعالیٰ کے فتوحات کے وعدے ہیں۔فتوحات کے نئے سے نئے دروازے کھلنے کے وعدے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا یہ نظارے ہم دیکھ بھی رہے ہیں لیکن دوسروں سے اس قسم کے کوئی وعدے نہیں ہیں۔جہاں تک شیعوں کی مثال دیتے ہیں یا کسی دوسرے کی مثال دیتے ہیں مجھے تو کہیں ایسا نظر نہیں آتا کہ دنیاوی احتجاج کر کے انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لئے ہوں۔ہاں توڑ پھوڑ، گھیراؤ جلاؤ ہر جگہ ضرور ہورہا ہے اور اس کی وجہ سے مزید فساد پھیل رہا ہے۔تو جیسا کہ میں نے کہا کہ ظلم کا بدلہ ظلم کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا اور ہم نے یہ نہیں کرنا۔یہاں میں دنیا داروں کے رویوں کی ایک مثال بھی دے دیتا ہوں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ دنیا اگر مددبھی کرتی ہے تو اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے یا اپنی مصلحتوں کو دیکھتے ہوئے کرتی ہے۔گزشتہ دنوں یہاں ایک اخبار نے ایک مضمون دیا کہ مسلمان یہاں حکومت کے وفادار نہیں ہیں اس لئے مغربی ممالک سے ان مسلمانوں کو نکال دینا چاہئے۔اس پر ہمارے پریس سیکشن نے کہا کہ یہ غلط ہے۔اسلام ملکی قانون کی پابندی اور وطن سے محبت کا حکم دیتا ہے۔اس پر اخبار نے کہا کہ دوسرے مسلمان فرقوں کا تو یہ عمل نہیں ہے۔تم دوسرے مسلمان فرقوں کو بھی یہ نصیحت کرو۔تو ہم نے کہا ٹھیک ہے اگر تمہارا اخبار اس نصیحت کو شائع کرنے کے لئے تیار ہے تو ہم بیان دے دیتے ہیں۔جب ان کی دی ہوئی شرائط کے مطابق کہ یہ لکھ کے، فلاں لکھ کے دو، وہ پورا کر دیا گیا تو پھر ایڈیٹر نے یا ان کے بورڈ نے یہ اعلان دینے سے بھی انکار کر دیا۔بہانہ یہ تھا کہ کچھ اور مضامین ایسے آگئے ہیں جس کی وجہ سے ہم نہیں دے سکتے اور پھر کبھی دینا ہوا تو دیکھیں گے۔ٹال مٹول۔تو بہر حال یہ بہانے تھے۔اصل بات یہ ہے کہ ان میں یہ جرات نہیں تھی کہ دوسرے مسلمان فرقے جو احمدیوں کے مخالف ہیں ان کو ناراض کریں۔انصاف کے تقاضے یہ لوگ پورے نہیں کرنا چاہتے۔بعض قسم کے خوف اور ڈران کے اندر ہیں اور جب وہ بعض مسلمانوں کے سختی کے رویے دیکھتے ہیں تو یہ ڈر مزید اور بڑھ جاتے ہیں۔میں اکثر جب مختلف لیڈروں اور پریس کو یہ کہتا ہوں کہ امن قائم کرنا ہے تو انصاف قائم کرو اور